سرینگر/۱۰نومبر
حکام کے مطابق جموں و کشمیر، ہریانہ اور اتر پردیش میں پھیلے ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے آٹھ افراد، جن میں تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں، کو گرفتار کیا گیا ہے اور دو ہزار نو سو کلو بارودی مواد ضبط کیا گیا ہے۔ یہ نیٹ ورک جیشِ محمد اور انصار غزوتْ الہند سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔
پندرہ روزہ کارروائی کے بعد گرفتار ہونے والوں میں کشمیر کے ڈاکٹر مزمل گنائی کو فریدآباد سے اور لکھنو کی ڈاکٹر شاہین کو شامل کیا گیا ہے، جنہیں فضائی راستے سے سرینگر لا کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اْن کی گاڑی سے ایک خودکار بندوق بھی برآمد ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر، اتر پردیش اور ہریانہ کی پولیس کے ساتھ مرکزی اداروں کی مشترکہ کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم حکام نے گرفتاریوں کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی۔
پولیس کے مطابق اس کارروائی سے جیشِ محمد اور انصار غزوتْ الہند (جو کہ بھارت میں داعش کی ایک شاخ بتائی جاتی ہے) کے خطرناک منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔
ضبط شدہ دو ہزار نو سو کلو مواد میں امونیم نائٹریٹ، پوٹاشیم نائٹریٹ اور گندھک شامل ہیں۔ اس میں سے تین سو ساٹھ کلو قابلِ اشتعال مواد، جو غالباً امونیم نائٹریٹ ہے، اور کچھ اسلحہ و گولہ بارود ڈاکٹر گنائی کے فریدآباد میں کرائے کے مکان سے برآمد ہوا۔
پولیس بیان کے مطابق مختلف مقامات سے چینی ساختہ اسٹار پستول بمعہ گولیاں، بیریٹا پستول، اے کے۶ ۵ بندوق، اے کے کرِنکوف بندوق، اسلحہ، کیمیکل، دھات کی چادریں، برقی سرکٹ، بیٹریاں، تاریں، ریموٹ اور ٹائمر بھی ضبط کیے گئے۔
ڈاکٹر گنائی، جو ہریانہ کی الفلاح یونیورسٹی میں مدرس تھے، کو جموں و کشمیر پولیس نے اس وقت نامزد کیا تھا جب سرینگر میں جیشِ محمد کے حمایتی پوسٹر لگانے کے ایک معاملے کی تفتیش جاری تھی۔
گرفتار آٹھ افراد میں سے سات کا تعلق کشمیر سے ہے ‘جن میںعارف نصیر ڈار عرف ساحل، یاسر الاشرف، مقصود احمد ڈار عرف شاہد (نوگام، سرینگر)، مولوی عرفان احمد (شوپیاں)، ضمیر احمد آہنگر عرف متلاشاہ (واکورہ، گاندربل)، ڈاکٹر مزمل احمد گنائی عرف مسیب (کوئل، پلوامہ)، اور ڈاکٹر عدیل (وانپورہ، کولگام) شام ہیں۔ ڈاکٹر شاہین کا تعلق لکھنو سے ہے۔
حکام کے مطابق ڈاکٹر گنائی اور ڈاکٹر عدیل کے فونوں سے پاکستانی نمبرات ملے ہیں جو ممکنہ طور پر اْن کے بیرونی رابطے تھے۔
انیس اکتوبر کو سرینگر کے بْنپورہ نوگام علاقے میں جیشِ محمد کے دھمکی آمیز پوسٹر لگنے کے بعد یہ تحقیقات شروع ہوئیں، جنہوں نے ایک بین الریاستی دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔
جموں و کشمیر پولیس کے بیان میں کہا گیا’’تحقیقات سے ایک وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس میں تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد شامل ہیں جو بیرونِ ملک رابطوں کے ذریعے انتہا پسندی، مالی لین دین اور رسد کے انتظامات کر رہے تھے۔‘‘
بیان کے مطابق یہ گروہ خفیہ رابطہ ذرائع استعمال کرتا تھا اور سماجی یا فلاحی سرگرمیوں کے نام پر رقوم جمع کرتا تھا تاکہ نئے افراد کی ذہن سازی، بھرتی، مالی معاونت، اسلحے اور بارودی مواد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ یہ ایک بڑا انسدادِ دہشت گردی اقدام ہے جس میں جیشِ محمد اور انصار غزوتْ الہند سے وابستہ نیٹ ورک کا صفایا کیا گیا۔ متعدد ریاستوں میں بیک وقت چھاپوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا۔
فریدآباد میں پولیس کمشنر ستندر کمار گپتا نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کو ڈاکٹر گنائی کے مکان پر چھاپہ مارا گیا، اور وضاحت کی کہ ’’یہ مواد آر ڈی ایکس نہیں ہے۔‘‘
گپتا نے مزید کہا کہ کمرے سے دہشت گردی میں استعمال ہونے والا دیگر مواد بھی برآمد ہوا ہے، جن میں بیس ٹائمر، چار بیٹریوں والے ٹائمر، پانچ کلو دھات، وائرلیس سیٹ، بیٹریاں، خودکار بندوق بمعہ تین میگزین اور ترانوے زندہ کارتوس، ایک پستول بمعہ آٹھ زندہ کارتوس، دو خالی خول اور دو اضافی میگزین شامل ہیں۔
گپتا نے کہا کہ کارروائی ابھی جاری ہے، اس لیے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔انہوں نے بتایا کہ ’’ملک کی سلامتی کے پیش نظر اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں سے متعلق کچھ اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، تاہم اْنہیں فی الحال ظاہر کرنا مناسب نہیں۔‘‘
پولیس کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں کیونکہ کچھ دیگر مشتبہ افراد کے کردار بھی سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران سرینگر، اننت ناگ، گاندربل اور شوپیاں میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے، جبکہ فریدآباد میں ہریانہ پولیس اور سہارنپور میں اتر پردیش پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں ہوئیں۔
مالی تحقیقات بھی جاری ہیں تاکہ فنڈ کے ذرائع اور تمام روابط کی نشاندہی کی جا سکے۔
(ویب ڈیسک)










