نہیں صاحب ہم کوئی مطلب اور نہ کوئی معنیٰ اخذ کررہے ہیں… ہم میں اتنی جرأت نہیں ہے ۔ہم تو صرف اُس ایک بات کو دہرانا چاہتے ہیں ‘ جو بات وزیرا علیٰ ‘عمرعبداللہ نے نگروٹہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے ایک انتخابی ریلی میں کہی … اُس ریلی میں جہاں وزیر اعلیٰ کواپنی تقریر مختصر کرنی پڑی کیونکہ بجلی گل ہو گئی … وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نگروٹہ اور بڈگام کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا ان کی حکومت کے استحکام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا… بالکل بھی نہیں پڑے گا … اور وزیر اعلیٰ صاحب سچ کہہ رہے ہیں…عددی اعتبار سے یقینا ان کی حکومت کو برتری حاصل ہے اس لئے اس کے استحکام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا … لیکن صاحب ہمیں یہ بتائیے کہ … کہ وزیرا علیٰ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں… ان کا اشارہ کس طرف ہے‘ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں… یا کیا ان کی سمجھ میںیہ بات آگئی ہے… یا آ رہی ہے کہ ان دونوں حلقوں سے وہ الیکشن ہار رہے ہیں… ان کی جماعت کو شکست ہو نے والی ہے… اور اسی لئے یہ جناب پہلے سے ہی خود کو ذہنی طور پر اس کیلئے تیار کررہے ہیں؟ ہم مانتے ہیں کہ نگروٹہ میں بی جے پی کو برتری حاصل ہے کیونکہ گزشتہ سال کے الیکشن میں اس نشست پر بی جے پی نے قبضہ کیا تھا… لیکن… لیکن بڈگام؟بڈگام میں تو وزیر اعلی نے خود الیکشن لڑا تھا اور… اور جیت بھی لیا تھا تو… تو کیا وزیر اعلیٰ کو اس حلقے سے ہار رہے ہیں کہ… کہ روح اللہ مہدی بھی ان کیخلاف ہو گئے ہیں… اور… اور لوگوں میں ‘جموںکشمیر کے لوگوں میں یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے… یا کیاجارہا ہے کہ عمرعبداللہ کی سرکار … اپنے انتخابی وعدوں کی لاج نہیں رکھ پائی ہے اور… اور پہلے سال … یا اپنی کل معیاد کے ۲۰ فیصد میں وہ کچھ نہیں کر پائی … کچھ بھی نہیں ۔بات چاہے کچھ بھی ہو… وزیرا علیٰ کچھ کر پائے یا نہیں … لیکن… لیکن نگروٹہ میں ان کی باتوں پر لوگ باتیں کرنے لگے ہیں… جتنی منہ اتنی باتیں… اور باتوں باتوں میں لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں… یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے لڑنے سے پہلے ہی اپنی ہار تسلیم کرلی ہے… کیا واقعی ایسا ہے؟ ہم نہیں جانتے ہیں کہ…کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو … تو وہ یہ ہے کہ ہار ہار ہو تی ہے… اس کا ایک اثر ہو تا ہے… بھلے ہی عددی اعتبار سے آپ کی پوزیشن کتنی بھی مضبوط کیوں نہ لیکن… لیکن ہار کا نفسیاتی اثر ہو تا ہے… اور سو فیصد ہو تا ہے ۔ ہے نا؟




