سرینگر/۳۱؍اکتوبر
جموںکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے جمعہ کو ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی نو روزہ اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس اجلاس کے دوران چار راجیہ سبھا نشستوں کے انتخابات منعقد ہوئے اور متعدد اہم سرکاری بل منظور کیے گئے ۔
اجلاس مجموعی طور پر پُرامن اور منظم انداز میں جاری رہا، اگرچہ کچھ موقعوں پر ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اس دوران پانچ سرکاری بلوں کی منظوری دی گئی جبکہ دو پرائیویٹ ممبرز کی قراردادوں پر بحث ہوئی۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اجلاس کے دوران کل۷۳۲سوالات موصول ہوئے جن میں سے۶۸۲سوالات منظور کیے گئے ، جبکہ۲۹سوالات پر تفصیلی بحث کی گئی اور اراکین نے۷۳ضمنی سوالات بھی اٹھائے ۔ اس کے علاوہ ۹۷زیرو آور مسائل بھی ایوان میں زیر بحث لائے گئے ۔
اجلاس میں۱۴نجی بل پیش کیے گئے ، جبکہ۳۳ پرانے بل اب بھی زیرِ التوا ہیں۔ کل۴۱نجی بلوں میں سے صرف ۸پر بحث کی گئی، تاہم یہ تمام بل یا تو حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد واپس لے لیے گئے یا ابتدائی مرحلے پر ہی صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد ہوئے ۔
اجلاس کے دوران۶۷نوٹسیں جمع کرائے گئیں جن میں سے۱۰پر بحث ہوئی۔ اسی طرح۱۴پرائیویٹ ممبر قراردادیں منظور کے لیے داخل ہوئیں جن میں سے صرف ایک قرارداد کو ایوان نے منظوری دی۔
ایوان کی واحد بڑی کارروائی میں خلل اُس وقت آیا جب بی جے پی ارکان اسمبلی نے واک آؤٹ کیا۔ یہ احتجاج اُس وقت ہوا جب اسپیکر نے اُدھمپور کے رکن اسمبلی پون گپتا کی جانب سے پیش کردہ ایک التوا کی تحریک کو مسترد کر دیا، جس میں جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین کے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اجلاس کے اختتام پر اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا’’میں تمام اراکین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایوان کی کارروائی کو مؤثر اور خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون دیا۔‘‘










