’سرینگر/۳۰؍اکتوبر
بھارت نے جمعرات کو اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’تریشول‘ کے نام سے بارہ روزہ مشترکہ فوجی مشق کا آغاز کیا۔ یہ مئی میں ہونے والے ’آپریشن سندور‘ کے بعد پہلی بڑی جنگی مشق ہے۔
تریشول کا مقصد، جیسا کہ این ڈی ٹی وی کو بتایا گیا، پاکستان کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو آپریشن سندور وہیں سے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے جہاں ختم ہوا تھا۔
یہ مشق گجرات اور راجستھان کی سرحدوں پر ہو رہی ہے، تاہم خاص توجہ گجرات کے کَچھ علاقے پر مرکوز ہے ‘جو پاکستان کے ساتھ ممکنہ نیا سرحدی تنازعہ بن سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ سرکریک کے بھارتی حصے پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ سرکریک ایک تنگ، متنازع آبی پٹی ہے جو تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر طویل ہے اور گجرات کے رَن آف کَچھ اور پاکستان کے درمیان واقع ہے۔
کاغذی طور پر یہ دونوں ممالک کی مغربی سرحد سمجھی جاتی ہے ‘ مغربی حصہ پاکستان کا اور مشرقی حصہ بھارت کا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کی سرزمین پر قبضے کی کوئی بھی کوشش ایسی جوابی کارروائی کو جنم دے گی جو ’تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دے گی‘۔
وزیر دفاع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان نے حال ہی میں سرکریک کے اطراف اپنی عسکری تنصیبات میں اضافہ کیا ہے ‘ جن میں بَنکرز، ریڈارز اور فارورڈ آپریٹنگ بیسز (ایف او بیز) شامل ہیں جو حملہ آور ڈرونز یا پیادہ کارروائیاں شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پاکستانی نیوی چیف ایڈمرل نوید اشرف نے اچانک سرکریک پٹی کے فارورڈ مورچوں کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ ’سرکریک سے جیوانی تک اپنی بحری سرحد کے ہر انچ کا دفاع کریں گے‘، جس نے نئی دہلی اور بھارتی دفاعی مشیروں کو چوکس کر دیا۔
تریشول میں بھارتی بری، بحری اور فضائی افواج کے تمام اہم یونٹس حصہ لے رہے ہیں۔
فوج کی جانب سے ٹی۹۰ ٹینکس، برہموس میزائل یونٹس اور آکاش میزائل ڈیفنس سسٹمز شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے میزائلی حملوں کو ناکام بنایا تھا۔
اس کے علاوہ دیسی ساختہ پراچنڈ اٹیک ہیلی کاپٹر بھی شامل کیا گیا ہے۔فضائیہ نے رافیل اور سخوئی۳۰ لڑاکا طیاروں کے ساتھ سی گارڈین اور ہی رون ڈرونز تعینات کیے ہیں۔
بحریہ نے کولکتہ کلاس ڈسٹرائرز، نیلگری کلاس فریگیٹس اور تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو مشق کا حصہ بنایا ہے۔
تریشول میں زمینی دستے بھی شامل ہیں، جن میں فوج کی پیرا اسپیشل فورسز ‘بحریہ کی میرین کمانڈوز ‘جو خشکی اور سمندر دونوں پر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فضائیہ کے گروڈ کمانڈوز شامل ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان نے تریشول مشق کے آغاز کے ردعمل میں اپنا فضائی علاقہ جزوی طور پر بند کر دیا ہے۔
ہفتہ کے روز پاکستانی فضائی حکام نے ایک’نوٹم‘ (نوٹس ٹو ایئر مین) جاری کیا، جس کے تحت مرکزی اور جنوبی فضائی راستوں پر۴۸گھنٹے کیلئے پروازوں پر پابندی عائد کی گئی۔تاہم، تریشول کی وسعت اور شدت سے واضح طور پر متاثر ہو کر، پاکستان نے مشق کے آغاز سے چند گھنٹے قبل اس پابندی کا دائرہ بڑھا دیا۔
اب یہ پاکستان کی بیشتر فضائی حدود پر محیط ہے …بھارت کی جانب سے بھی ایک نوٹم جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت فضائی حدود کو ۳۰؍ اکتوبر (جمعرات) کی نصف شب سے ۱۰ نومبر (پیر) کی رات۵۹:۱۱ بجے تک، ۲۸ ہزار فٹ کی بلندی تک محدود کر دیا گیا ہے۔(ندائے مشرق ڈیسک)










