سرینگر/۳۰؍اکتوبر
جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب بی جے پی(بھاجپا) کے قانون سازوں نے وقفہ سوالات میں خلل ڈالا جس کے بعد بی جے پی کے تین اراکین کو اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا۔
وقفہ سوالات کے دوران، بی جے پی کے قانون سازوں نے حالیہ سیلاب پر بحث کا مطالبہ کیا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ انہوں نے اس مسئلہ پر ایک نئی تحریک التواء پیش کی ہے ۔ تاہم اسپیکر نے فیصلہ دیا کہ ایک بار مسترد ہونے کے بعد اسی معاملے پر تحریک التوا نہیں لائی جا سکتی ہے ۔
لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما نے حکومت پر سیلاب کی صورتحال پر بحث سے بچنے کا الزام لگایا۔
شرما نے مطالبہ کیا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی حالت زار پر بحث کی اجازت دینے کے لیے وقفہ سوالات کو معطل کیا جائے ۔
لیڈر آف اپوزیشن نے سڑکوں اور عمارتوں کے محکمے میں بدعنوانی کا الزام لگایا جس کے نتیجے میں ایوان میں دونوں طرف سے نعرہ بازی ہوئی۔
اسپیکر کی جانب سے بار بار اپنی نشستوں پر واپس آنے کی ہدایت کے باوجود احتجاج کرنے والے بی جے پی اراکین اسمبلی نے اپنا مظاہرہ جاری رکھا اور اس دوران بی جے پی کے تین اراکین ویل میں گھس آئے جن کو بعد میں اسمبلی سے باہر نکالا گیا۔
شرما نے حکومت پر سیلابی نقصانات کے تخمینے میں تاخیر اور ٹینڈر الاٹمنٹ میں بڑے گھوٹالے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
سنیل شرما نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اگست کے مہینے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے جموں و کشمیر میں زبردست نقصان پہنچایا، تاہم حکومت کی سست روی اور بے عملی نے عوام کو مزید مایوس کر دیا۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا’’سیلاب کے باعث غریبوں کے گھر، کھیت، باغات، ڈھانچے اور مویشی تباہ ہو گئے ۔ لوگ عبد ﷲ حکومت سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے ، مگر افسوس کہ حکومت نے ابھی تک نقصانات کی تفصیلی رپورٹ مرکز کو پیش نہیں کی‘‘۔
شرما نے مزید الزام عائد کیا کہ کروڑوں روپے کے ٹینڈرز قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے ساتھ الاٹ کیے گئے ہیں، اور اس سارے عمل میں کسی مخصوص شخص کو فائدہ پہنچانے کی نیت شامل ہے ۔
اپوزیشن لیڈر نے عمر عبداللہ سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا’’ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے ۔ کروڑوں روپے کے ٹینڈرز غیر قانونی طور پر الاٹ کیے گئے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ ٹینڈرز کس کے حلقے میں دیے گئے ؟ کیا وہ وزیر عمر صاحب کے قریب ہیں؟ اگر کوئی شک ہے تو اس پورے معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے ‘‘۔
شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ نے روزگار، گیس سلنڈر، راشن اور بجلی کے وعدے کیے تھے ، مگر عوام کو اس کے بدلے صرف اسکینڈل اور بدعنوانی ملی۔یو این آئی










