نہیں صاحب ہم یہاں کوئی فیصلہ سنانے نہیں بیٹھے ہیں… بالکل بھی نہیں ہیں ۔ فیصلہ تو لوگ کرتے ہیں … اس بات کا فیصلہ کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا…یہ لوگوں کا کام ہے… ہمارا نہیں ‘ اس لئے ہم یہ کام نہیں کریں گے… لیکن…لیکن صاحب یہ کیا بات ہو ئی کہ اگر دو سیاسی لیڈر… حریف سیاسی لیڈر آپس میں بات کریں تو… تو ان کی اس بات چیت اور علیک سلیک کو بھی میچ فکسنگ قرار دیا جاتا ہے… یہ صحیح نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ سیاسی … حریف سیاسی لیڈر بھی اسی سماج کا حصہ ہیں… ان کے بھی ہماری طرح دوست و احباب ہوتے ہیں… ان کی بھی یاریاں ہو تی ہیں… حریف سیاسی جماعت کے لوگوں سے بھی ہو تی ہیں… اور اللہ میاں کی قسم اس میں کوئی بری بات نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… غلط بات یہ ہے … میچ فکسنگ یہ ہے جب سیاستدان … حریف سیاستدان رات کی تاریکیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں… آپ اور ہماری نظروں سے چھپتے چھپاتے ملتے ہیں… اگر ایسا ہو تو … صاحب سب سے پہلے ہم اسے میچ فکسنگ قرار دیں گے… ممکن ہے کہ راجیہ سبھا الیکشن کے دوران این سی اور بی جے پی کے لیڈروں میں ایسی کوئی ملاقات یا ملاقاتیں ہو ئیں بھی ہوں… لیکن چونکہ ہم نے ایسی کوئی ملاقات ہو تی نہیں دیکھی… اس لئے ان دونوں جماعتوں کے لیڈروں کا آپس میں بات چیت کرنا … اسمبلی کے احاطے میں تھوڑی دور ‘ کسی کونے میں بات کرنے کو میچ فکسنگ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ ان کو معلوم ہے کہ… کہ دور کونے میں جا نے کے باوجود دنیا کی نظریں ان پر مرتکز ہیں… نہیں صاحب اتنا تنگ نظر نہ بن جائیے… بالکل بھی نہ بن جائیے کہ… کہ اللہ میاں کی قسم ہم نے ایسی سیاست اور سیاستدان بھی دیکھے ہیں جو میچ فلسنگ بھی کر لیتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ… کہ وہ میچ فکسنگ ہی کیا جس کے چر چے ہوں … اس لئے جناب اپنے اس دماغ پر زیادہ زور نہ دیجئے… بالکل بھی نہیں دیجئے اور… اور سیاستدانوں … سبھی سیاستدانوں کو اتنی چھوٹ‘اتنی رعایت تو دیجئے اور… اور اس لئے دیجئے کہ … کہ اللہ میاں کی قسم وہ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں… وہ بھی آپ اور ہماری طرح انسان ہیں۔ ہے نا؟




