سرینگر/۲۷؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ایک سنگین سیاسی و عوامی مسئلے کو ذاتی رنگ دے دیا ہے ، جو کہ افسوسناک ہے ۔
نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران روح اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے کو ذاتی بنا رہے ہیں۔ ذاتی لڑائیاں بعد میں لڑی جا سکتی ہیں، فی الحال کشمیر کے لوگ کئی بڑے مسائل سے دوچار ہیں۔
سرینگر سے لوک سبھا کے رکن نے کہا کہ ہزاروں نوجوان برسوں سے جیلوں میں بند ہیں اور حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ ان کے مطابق’’روح اللہ کوئی ذات نہیں، میں کہانی نہیں، کہانی کشمیر کی ہے ۔ حکومت کو بتانا چاہئے کہ وہ نوجوان کہاں ہیں جو برسوں سے جیلوں میں ہیں؟‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما نے اپنی ہی جماعت کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۴کے انتخابات کے دوران عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے ، ان کا کیا ہوا۔’’ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ایک لاکھ نوکریاں فراہم کی جائیں گی، وہ نوکریاں کہاں ہیں؟ ہمارے مذہب، ثقافت اور شناخت پر جو حملے ہوئے ، ان کے دفاع کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کئے ؟‘‘
آغا روح اللہ نے کہا کہ ان کی ذات کی کوئی اہمیت نہیں، اصل اہمیت ان وعدوں کی ہے جو عوام سے کئے گئے ۔’’میں نے کوئی علیحدہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ علیحدہ راستہ ان لوگوں نے چنا ہے جنہوں نے وعدوں سے انحراف کیا ہے ‘‘۔
این سی لیڈر نے مزید کہا کہ لوگوں نے نیشنل کانفرنس پر اپنے مستقبل کے لیے بھروسہ کیا ہے ، اس لیے عوامی مفادات کی بات کرتے رہنا پارٹی کا فرض ہے ۔’’اگر کسی کو سچ بولنا برا لگتا ہے تو لگے ، لیکن ہم عوام کی بات کرتے رہیں گے ۔ ہم نے یہ جدوجہد اقتدار یا شالوں اور گلدستوں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کے وقار کے لیے کی تھی‘‘۔
روح اللہ کے اس بیان نے اسمبلی کے اندر اور باہر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ۔ مبصرین کے مطابق ان کا یہ موقف پارٹی قیادت کے لیے ایک کھلا پیغام ہے کہ عوامی وعدوں اور اصولوں سے انحراف سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔(ویب ڈیسک)










