سرینگر/۲۷؍اکتوبر
جولائی میں یہ افواہیں زوروں پر تھیں کہ پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ تاہم منیر نے ایسا قدم اٹھانے سے گریز کیا، کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو عالمی سطح پر ان پر جمہوریت بحال کرنے کا دباؤ پڑے گا۔
جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو معزول کر کے خود کو پاکستان کا صدر بنایا تھا تو اْن پر جمہوریت بحال کرنے کے لیے شدید بین الاقوامی دباؤ تھا۔ عاصم منیر نے اس واقعے سے سبق سیکھا ہے اور اس بار انہوں نے راست طور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے پورے ملک کو پسِ پردہ کنٹرول کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس میں ایک کٹھ پتلی وزیرِ اعظم اور صدر کو بظاہر جمہوری ڈھانچے کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔
پاکستانی آرمی چیف بتدریج اپنے خاندان اور فوج کے قریبی افراد کو ملک کے سول انتظامی ڈھانچے میں تعینات کر رہے ہیں تاکہ وہ فوجی اور سول دونوں سطحوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں۔
جنرل منیر نے سب سے پہلے عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے اور پھر جیل بھیجنے کو یقینی بنایا۔ آرمی چیف کے لیے سب سے بڑا خطرہ عمران خان ہی تھے، اس لیے انہوں نے سب سے پہلے انہیں راستے سے ہٹایا۔ اس کے بعد انہوں نے آصف علی زرداری کو صدر اور شہباز شریف کو وزیرِ اعظم مقرر کیا۔ یہ دونوں اس وقت عاصم منیر کے ہاتھوں میں محض کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
دوسرا قدم انہوں نے یہ اٹھایا کہ اپنے منظورِ نظر جنرل عاصم ملک کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا اور انہیں نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (قومی سلامتی کے مشیر) کا اضافی چارج بھی دیا۔ اب منیر نے اپنے بھتیجے، کیپٹن سید ابو الرحمن بن قاسم، کو مسلح افواج سے سول سروس میں منتقل کر دیا ہے۔ اپنے بھتیجے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید نو پاکستانی فوجی افسران کو بھی سول انتظامیہ میں تعینات کیا ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ منیر پاکستان کے ہر محکمے میں اپنے وفادار افراد کو بٹھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہر چیز پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کر سکیں۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق اس حکمتِ عملی سے منیر کو پورے نظام پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا، جبکہ دنیا کے سامنے پاکستان کو بظاہر ایک جمہوری ملک کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔ اپنے بھتیجے کو وزیرِ اعظم کے دفتر میں تعینات کرنا دراصل شہباز شریف پر قریبی نگرانی رکھنے کی ایک چال ہے۔
جنرل منیر کا منصوبہ یہ بھی ہے کہ وہ وزارتِ داخلہ، اعلیٰ کمیشنز اور سفارتخانوں میں بھی اپنے قریبی افراد کو تعینات کریں۔ اس طرح وہ ملک کے انتظامی ڈھانچے تک براہِ راست رسائی حاصل کر لیں گے۔
انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ منیر کا بھتیجا بالآخر امریکہ یا بھارت میں کسی سفارتخانے کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے منیر کو غیر ممالک میں انٹیلی جنس آپریشنز پر بھی مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ تاہم جنرل منیر کے لیے انٹیلی جنس آپریشنز پر قابو پانا کوئی بڑی ترجیح نہیں ہے کیونکہ آئی ایس آئی کا سربراہ اْن کا منظورِ نظر ہے۔ یہ تمام اقدامات دراصل پاکستان کے تمام امور پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم اور صدر اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے، مگر یہ محض علامتی حیثیت کے حامل ہوں گے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ پاکستان میں جمہوریت موجود ہے۔ ایک اہلکار نے وضاحت کی کہ یہ تمام اقدامات منیر کی اپنی غیر یقینی اور عدمِ تحفظ کے احساس سے جنم لے رہے ہیں۔ یہ حقیقت کہ انہوں نے شہباز شریف سے خود کو’فیلڈ مارشل‘ کے عہدے پر ترقی دلوائی ‘باوجود اس کے کہ وہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران شرمندگی کا سامنا کر چکے تھے ‘خود ان کی عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔
مزید برآں، جنرل منیر کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی ایل اے)، اور افغان طالبان کے ہاتھوں بار بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر فوجی بغاوت ہوئی تو انہیں ہٹا دیا جائے گا، کیونکہ فوجی حلقوں میں اْن کی قیادت کے خلاف ناراضی بڑھ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کئی فوجی سپاہی ٹی ٹی پی کے خلاف لڑنے سے انکار کر رہے ہیں، خاص طور پر قبائلی علاقوں میں۔
یہ تمام پیش رفت اْس تناؤ کے پس منظر میں ہو رہی ہے جو جی ایچ کیو اور حکومت کے درمیان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب منیر نے آرمی چیف کے طور پر اپنی مدت میں توسیع کی خواہش ظاہر کی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ۲۰۲۷ تک آرمی چیف رہ سکتے ہیں، لیکن منیر نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ تک اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے نے فوج کے اندر کئی سینئر افسروں کو ناراض کر دیا ہے، جو اگلے آرمی چیف کے طور پر ترقی کے منتظر ہیں۔
منیر نے پہلے ہی چند اعلیٰ کور کمانڈروں کے تبادلے کر کے یہ یقینی بنایا ہے کہ مستقبل میں سینیارٹی کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ منیر اندرونی طور پر عدمِ اعتماد اور خوف کا شکار ہیں، اسی لیے وہ خفیہ اداروں، فوج اور اب سول انتظامیہ، تینوں پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔(آئی اے این ایس)(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










