سرینگر/۲۵؍اکتوبر
پیپلز کانفرنس (پی سی)کے چیئرمین اور ہندوارہ کے ایم ایل اے سجاد غنی لون نے ہفتے کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) پر الزام لگایا کہ اس نے ریزرویشن پالیسی کے ذریعے ’میرٹ کا قتل‘ کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ کشمیری امیدواروں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع سے دانستہ طور پر محروم رکھا جا رہا ہے۔
ہفتہ کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لون، جو ہندوارہ سے ایم ایل اے بھی ہیں، نے کہا کہ ان کی پارٹی جلد ہی جموں و کشمیر میں جاری ریزرویشن پالیسی کے خلاف ایک ’مکمل مہم‘ شروع کرے گی۔
لون نے کہا’’یہ حکومت میرٹ کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اوپن میرٹ کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہم اس پالیسی کے خلاف زمینی سطح پر رجسٹریشن مہم شروع کرنے جا رہے ہیں‘‘۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ نظام ’’کشمیر کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کی پارٹی سڑکوں پر بھی اترے گی۔ ’’ہم گھر گھر جائیں گے۔ اگر بھوک ہڑتال یا بڑے احتجاج کی ضرورت پڑی تو ہم ہچکچائیں گے نہیں۔ بس اب بہت ہو گیا‘‘۔
پی سی کے صدر نے نیشنل کانفرنس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران ’’این سی، بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت‘‘ میں تھی۔انہوں نے کہا’’یہ دو تین اضافی ووٹ دراصل اس چوتھے امیدوار کے لیے ممکن ہی نہیں تھے۔ اگر کراس ووٹنگ نہ بھی ہوتی تو وہ امیدوار پھر بھی ہار جاتا۔ ساری کراس ووٹنگ نیشنل کانفرنس نے خود کی۔ یہ سب انہوں نے خود کیا‘‘۔
لون نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے سات ارکان نے ’’براہ راست اپنے ووٹ بی جے پی کو تحفے میں دیے‘‘۔ لون نے کہا’’یہ ایک طے شدہ میچ تھا۔ یہی وہ جماعت ہے جو دوسروں پر بی جے پی کے ساتھ ہونے کا الزام لگاتی تھی، اور آج خود بی جے پی کی گود میں بیٹھی ہے‘‘۔
ہندوارہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اس طرزِ عمل نے اس کے ’’حقیقی حزبِ مخالف ہونے کے تمام دعووں‘‘ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ہماری عوام کو آنکھیں کھولنی چاہئیں اور دیکھنا چاہیے کہ انہیں کس طرح دھوکہ دیا گیا۔ اگرچہ بی جے پی براہ راست اقتدار میں نہیں ہے، لیکن ان کی پسندیدہ پارٹی ہی آج حکومت چلا رہی ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے لون نے کہا کہ کانگریس کو دانستہ طور پر ایک’’ہارنے والی راجیہ سبھا سیٹ‘‘ دی گئی۔ انہوں نے کانگریس کو چوتھی نشست کی پیشکش کی، جو جیتنے کے قابل نہیں تھی۔ عمر عبداللہ پوچھ رہے تھے ‘وہ چوتھی سیٹ پر کیوں نہیں لڑتے؟…وہ یہی چاہتے تھے
لون نے کہا کہ کانگریس چونکہ ایک قومی جماعت ہے، اسے ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ ’’ایک قومی جماعت کا قومی سطح پر الگ وزن ہوتا ہے۔ علاقائی جماعتوں کا نہیں‘‘۔
پی سی صدر نے مزید الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کے ماضی کے راجیہ سبھا ارکان دہلی میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کر پائے۔ ’’ان میں سے کسی نے بھی یہاں کے لیے کچھ ٹھوس نہیں کیا۔ وہ صرف ذاتی فائدے کے لیے وہاں جاتے رہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے طرزِ سیاست کو ’’دہلی کے سامنے جھکنے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے لون نے کہا’’ستر برس سے یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ وہ دہلی جا کر کہتے ہیں: ہمیں مارو مگر رونے دو۔ یہاں وہ مزاحمت کا ڈرامہ کرتے ہیں، وہاں جا کر دہلی سے لاٹھی تیز کرنے کی التجا کرتے ہیں‘‘۔
دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کے حوالے سے لون نے الزام لگایا کہ ’’۵؍اگست۲۰۱۹سے پہلے دہلی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان آدھی رات کے اجلاسوں میں دھوکہ پر دھوکہ دیا گیا‘‘۔
لون نے جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’’جاگ جائیں‘‘ اور اس ’’طویل سیاسی فریب‘‘ کو پہچانیں۔انہوں نے کہا’’بی جے پی انہی لوگوں کے ذریعے اپنے امیدواروں کو جتاتی ہے۔ انتخابات کے دوران وہ بی جے پی کو گالیاں دیتے ہیں تاکہ عوام کو بے وقوف بنائیں، مگر پسِ پردہ ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں‘‘۔
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ وہ ’’اللہ کے شکر گزار‘‘ ہیں کہ انہوں نے اس ’’بدعنوان عمل‘‘سے خود کو دور رکھا۔ ان کاکہنا تھا’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے ووٹ ڈالنے سے پرہیز کیا، ورنہ آج ساری انگلیاں میری طرف اٹھ جاتیں۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










