سرینگر/۲۵؍اکتوبر
شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے سب ڈویژن ہندوارہ کی ایک عدالت نے منشیات کی غیر قانونی تجارت سے متعلق قانون (این ڈی پی ایس ایکٹ) کے تحت جرم ثابت ہونے پر ایک شخص کو ۱۱سال کی قید با مشقت اور ایک لاکھ روپیے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔
ملزم کو قبل ازیں ایڈیشنل سیشنز جج ہندوارہ منصور احمد لون نے سیکشن ۲۱/۸؍این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ۲۱؍اکتوبر کو مجرم قرار دیا تھا اور سزا کے تعین کے لئے سماعت کے دوران اس کو مکمل حراست میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل احرار احمد ڈار نے عدالت سے نرمی کی اپیل کی ہے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ ملزم کا مالی پس منظر کمزور ہے اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے تحقیقات اور مقدمے کی سماعت کے دوران پانچ سال سے زیادہ عرصہ پہلے ہی حراست میں گذارا ہے لہذا سزا سناتے وقت اس مدت کو مد نظر رکھا جائے ۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ انسانی ہمدردی اور اصلاحی نقطہ نظر اپنائے ۔
دوسری جانب ایڈیشنل پبلک پراسیکیٹر (اے پی پی) تحسیم بشیر بلتی نے کسی بھی نرمی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس کا براہ راست اثر سماجی اور اخلاقی ڈھانچے پر پڑتا ہے ۔
انہوں نے استدلال دیا کہ منشیات کی اسمگلنگ عوامی صحت اور سماجی استحکام کے لئے سنگین خطرہ ہے اس لئے سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ دوسروں کیلئے سبق آموز ثابت ہو۔
یہ کیس۱۲جولائی۲۰۱۹کا ہے جب ہندوارہ پولیس نے معمول کی جانچ کے دوران ایک کار کو روکا تھا اور اس کے انجن کے ایئر فلٹر میں چھپایا گیا۷۵۰گرام ممنوعہ مواد بر آمد کیا تھا جس کے بعد گاڑی کے ڈرائیور کو موقع پر ہی گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ مواد کپڑے اور پالیتھین میں لپٹا ہوا تھا جس کو بعد ازاں برائون شوگر قرار دیا گیا تھا۔
ملزم کے خلاف پولیس اسٹیشن ہندوارہ میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور سی آر پی سی کے دفعہ۴۸۹کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ملزم کے انکشافی بیان پر پولیس نے اس کے گھر سے۵۰گرام ہیروئن اور جعلی کرنسی بھی بر آمد کی تھی اور چالان یکم اکتوبر۲۰۱۹کو عدالت میں پیش کیا تھا۔
سزا کے تعین کے بارے میں عدالت نے اپنے تفصیلی حکمنامے میں مشاہدہ کیا کہ سماج کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو بر قرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ سزا جرم کی سنگینی کے مطابق دی جائے ۔
عدالت نے کہا’’نامناسب طور پر نرم سزا دینا عدالتی نظام کے لئے نقصان دہ ہوگا اور قانون پر عوام کا اعتماد کمزور کرے گا معاشرہ ایسے سنگین خطرات کے تحت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا ہے ‘‘۔
دونوں فریقوں کے دلائل اور قانونی پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد عدالت نے کہا کہ انصاف کے تقاضے اس صورت میں پورے ہوں گے اگر این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کم از کم مقررہ سزا دی جائے ۔
چنانچہ عدالت نے مجرم کو قق سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپیہ جرمانے کی سزا سنائی۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید۶ماہ کی قید سادہ کاٹنی ہوگی۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ملزم نے جو پانچ سال دو ماہ اور۲۲دن پہلے ہی حراست میں گذارے ہیں، وہ مدت دفعہ۴۲۸تعزیارات فوجداری (سی آر پی سی) کے تحت کل سزا میں شمار کئے جائیں گے ۔ایجنسیز










