سرینگر/۲۴؍ اکتوبر:
وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ آپریشن سندور بھارت کی جرأت اور تحمل کی ایک تاریخی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے فوج کو تاکید کی کہ وہ مخالفین کو کبھی کم نہ سمجھیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا رہیں۔
راجناتھ سنگھ نے جیسلمیر میں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو اطلاعاتی جنگ (انفارمیشن وارفیئر)، جدید دفاعی ڈھانچے کی تیاری اور جدید کاری پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ مستقبل کے چیلنجوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
وزیرِ دفاع نے آپریشن سندور کو بھارت کی عسکری صلاحیت، قومی کردار، اور نظم و ضبط کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے سپاہیوں کی اصل طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے اخلاقی نظم و ضبط اور اسٹریٹیجک بصیرت میں بھی ہے۔
سنگھ نے کہا’’آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ قوم کی جرأت اور تحمل کی علامت کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا‘‘۔
وزیر دفاع نے مزید کہا’’دہشت گردوں کے خلاف ہماری افواج کی کارروائی نہ صرف پالیسی کی درستگی بلکہ انسانی وقار کے اصولوں کے مطابق تھی۔ یہ آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ امن کے لیے ہمارا مشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایک بھی دہشت گردانہ ذہنیت باقی ہے‘‘۔
فوجی کمانڈروں نے اجلاس میں گرے زون وارفیئر اور مشترکہ حکمتِ عملی کے خدوخال سمیت متعدد سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوھان، آرمی چیف جنرل اْپندر دویدی، ڈیفنس سیکریٹری راجیش کمار سنگھ، وائس چیف لیفٹیننٹ جنرل پْشپیندر سنگھ اور تمام فوجی کمانڈر موجود تھے۔
وزیرِ دفاع نے کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ دفاعی سفارت کاری، خود انحصاری، اطلاعاتی جنگ، دفاعی ڈھانچے اور افواج کی جدید کاری پر توجہ مرکوز رکھیں تاکہ فوج مستقبل کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔
سنگھ نے بھارتی افواج کے پیشہ ورانہ معیار، جرأت اور حوصلے کو سراہتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ فوج کو جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مکمل تعاون فراہم کرتی رہے گی تاکہ اعلیٰ ترین سطح پر عملی تیاری برقرار رہے۔
راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد امن و ترقی کے قیام میں بھارتی فوج کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا،’’آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی تاریخی فیصلہ تھا۔ آج کشمیر کی گلیاں امید سے بھری ہیں، بے چینی سے نہیں۔ لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں پْراعتماد ہیں اور سب سے بڑھ کر فیصلہ سازی اب مقامی عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اس سفر میں بھارتی فوج کا کردار انتہائی اہم رہا ہے‘‘۔
شمالی سرحد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ چین کے ساتھ جاری مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات بھارت کی متوازن اور مضبوط خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا’’ہماری پالیسی بالکل واضح ہے …بات چیت جاری رہے گی، لیکن سرحد پر ہماری تیاری بھی پوری طرح برقرار رہے گی‘‘۔
راجناتھ سنگھ نے فوجیوں کے حوصلے اور نظم و ضبط کو بھارت کی افواج کی اصل پہچان قرار دیا۔ انہوں نے کہا،’’چاہے وہ سیاچن کی برف پوش چوٹیوں کا سخت موسم ہو، راجستھان کے صحراؤں کی تپش، یا گھنے جنگلات میں انسدادِ بغاوت کی کارروائیاں ‘ہمارے سپاہیوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیت اور عزم ثابت کیا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ فوج نے ہر مشکل ماحول میں خود کو حالات کے مطابق ڈھال کر قومی سلامتی کو مزید مضبوط کیا ہے۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگرچہ آج کی جنگیں ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، لیکن سپاہی ہی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔انہوں نے کہا’’مشینیں طاقت بڑھاتی ہیں، لیکن اصل قوت انسان کے حوصلے اور جذبے میں ہوتی ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جدید جنگیں اب غیر مرئی میدانوں … سائبر اسپیس، اطلاعاتی محاذ، الیکٹرانک مداخلت اور خلائی کنٹرول… میں لڑی جا رہی ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ اہم ہے تیز فیصلہ سازی اور سپاہیوں کا عزم و ارادہ۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










