سرینگر/۲۴؍اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہانے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے منعقدہ این اِی پی کنکلیو۲۰۲۵ کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی کے تیز ی سے عمل آوری کیلئے تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔
سنہا نے کہا کہ یہ بات جموںوکشمیر کیلئے باعث افتخار ہے کہ جموں کشمیریوٹی کے تمام اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں قومی تعلیمی پالیسی کو عملانے والے ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی یونیورسٹیاں اور کالج ایک ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں جو اِختراعات اور جدید تحقیق کے لئے اہم رول اَدا کرے گا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا’’ہم ایک ایسا تعلیمی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کر رہے ہیں جو مستقبل کے لئے جامع، اِختراعی اور بامعنی ہو۔ ہمارا مقصد جموں و کشمیر کے ہر طالب علم کو بااِختیار بنانا، ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا، ’’وکست بھارت کے جذبے کو برقرار رکھنا اور ملک کی ترقی کی داستان میں ایک باوقار حصہ دار بنانا ہے۔‘‘
سنہانے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر اعلیٰ تعلیم کے نظام میں اِصلاحات اور مضبوطی کے لئے ایک تحریک کی تعمیر کر رہا ہے تاکہ بدلتی دُنیا کے چیلنجوںسے نمٹا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کا دور اور روایتی ہندوستانی نظریات ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کریں گے۔
ایل جی ہانے مزید کہا، ’’اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں تکنیکی ترقی اور ہندوستانی تہذیبی اَقدار کا امتزاج مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور مضبوط اِقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘‘
سنہا نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کا مقصد اعلیٰ تعلیمی شعبے میں عدم مساوات کو کم کرنا اور نوجوانوں کے لئے مواقع میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ تنقیدی سوچ اور عمر بھر سیکھنے کی صلاحیت سے آراستہ ہو سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا’’ہماری اعلیٰ تعلیمی اِداروں نے بین الشعبہ جاتی اور منصوبہ جاتی تعلیم کو اَپنایا ہے اور ہم روایتی مضامین کی حدود سے آگے بڑھ کر حقیقی دُنیا اور تعلیمی دنیا کے درمیان موجود رُکاوٹوں کو ختم کررہے ہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کو بااِختیار بنائے گا اور ان کی ہنروں اور علم میں اضافہ کرے گا تاکہ وہ پیشہ ورانہ ترقی حاصل کر سکیں۔‘‘
ایل جی نے مزید کہا کہ ایک مانیٹرنگ میکانزم تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ تحقیقاتی منصوبے مستقبل پر مبنی ہوں، نئی سوچ کو فروغ دیں اور معاشرتی علم میں نئی جہتیں متعارف کریں۔
سنہا نے زور دیا کہ تمام اعلیٰ تعلیمی اِدارے ’’ڈیزائن یور اون ڈِگری‘‘ جیسے اِختراعی پروگراموں کو مقررہ وقت میں عملائیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اِداروں کے درمیان وسائل کے اشتراک اور چیلنجوں کے مؤثر حل کے ذریعے جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ہمہ جہت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ڈی آئی پی آر










