سرینگر/۲۳؍اکتوبر
سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو واضح کیا کہ ان کی جماعت راجیہ سبھا انتخابات میں صرف تیسری نشست کے لیے نیشنل کانفرنس (این سی) کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بی جے پی کو دور رکھنے اور عوامی مفاد کے قوانین کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی کی حمایت مشروط ہے، اور یہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک نیشنل کانفرنس دو اہم پرائیویٹ ممبر بل ‘ زمین کے باقاعدہ کرنے اور ڈیلی ویجرز کی مستقلی کو اسمبلی سے منظور نہیں کراتی۔
محبوبہ نے کہا، ’’ہم صرف تیسری نشست کے لیے ووٹ دیں گے۔ چوتھی نشست کے لیے ووٹ نہیں دیں گے، کیونکہ اگر بی جے پی وہاں جیت گئی تو اس کی ذمہ داری ناحق طور پر پی ڈی پی پر ڈالی جائے گی۔‘‘
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں … دو نشستیں الگ اور دو ایک ہی نوٹیفکیشن میں شامل ہیں۔ نیشنل کانفرنس کو تیسری نشست پر برتری حاصل ہے، جبکہ چوتھی نشست کا فیصلہ آزاد امیدواروں کی حمایت پر منحصر ہوگا۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے شمّی اوبرائے تیسری نشست پر اور عمران نبی ڈار چوتھی نشست پر امیدوار ہیں۔ پولنگ کل، ۳۴؍ اکتوبر کو ہوگی۔
پی ڈی پی صدر نے وضاحت کی کہ زمین سے متعلق بل کا مقصد اْن غریب خاندانوں کو ملکیتی حقوق دینا ہے جو ۲۰۱۹ سے سرکاری زمین پر مکانات بنا کر رہ رہے ہیں اور جنہیں انہدام کے مستقل خطرے کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا ’’بلڈوزر پورے ملک میں اور یہاں بھی استعمال ہوئے۔ جو لوگ سرکاری زمین پر گھر بنا کر رہتے ہیں، وہ تلوار کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تلوار ہٹائی جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔‘‘
بل میں اْن ہوٹل مالکان کے تحفظ کا بھی ذکر ہے جن کی لیز ختم ہونے کے خطرے میں ہے، تاکہ ان کی جائیدادیں باہر کے سرمایہ کاروں کو نیلام نہ کی جائیں۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ٹیلیفون پر بات کی اور بل کی منظوری کے لیے ان کی حمایت مانگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے این سی کے امیدوار شمّی اوبرائے سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیشنل کانفرنس ان بلوں میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
ڈیلی ویجرز کے مسئلے پر پی ڈ ی پی صدر نے کہا کہ ہزاروں عارضی ملازمین جن میں محکمہ پی ایچ ای، آر اینڈ بی، آبپاشی، صحت اور تعلیم کے ملازمین شامل ہیں، کئی دہائیوں سے معمولی یا بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ بل ان کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔ بہت سے ڈیلی ویجرز ۲۰ سے۲۵ سال سے کام کر رہے ہیں۔ کچھ کو تو تنخواہیں بھی نہیں ملتیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے حقوق کو تحفظ دیا جائے۔‘‘
محبوبہ نے کہا کہ پی ڈی پی کی حمایت مکمل طور پر ان وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی رہنما سنیل شرما نے زمین کے بل کو ’’لینڈ جہاد بل‘‘ قرار دے کر دھمکی دی۔انہوں نے کہا، ’’سنیل شرما نے ہمیں دھمکی دی کہ یہ لینڈ جہاد بل ہے۔ اب نیشنل کانفرنس کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ بل منظور ہو۔ ان کے پاس۵۰؍ ارکان ہیں، انہیں کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔
محبوبہ نے اسمارٹ میٹر چارجز پر عوامی ناراضگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ غریب صارفین کو وعدے کے مطابق ۲۰۰ یونٹ بجلی مفت ملنی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار کی معافی کی تجویز دی تھی، مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔انہوں نے اسمبلی میں اظہارِ رائے کی آزادی اور میڈیا کی محدود رسائی پر بھی تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ عوام کو حکمرانی میں آواز ملنی چاہیے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی جماعت کی قانون سازی حکمتِ عملی کو وسیع سیاسی تناظر میں رکھتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی زمین اور وسائل کا تحفظ قومی سطح پر بی جے پی کے دباؤ کا توڑ ہے۔
محبوبہ نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے کانگریس کو محفوظ نشست نہ دینا افسوسناک ہے اور انڈیا الائنس کی بعض جماعتوں کی ساکھ پر سوال کھڑا کرتا ہے۔آخر میں محبوبہ مفتی نے اعادہ کیا کہ پی ڈی پی کے ووٹ صرف تیسری نشست کے لیے ہوں گے اور پارٹی اپنے عوامی ایجنڈے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، ’’اگر نیشنل کانفرنس زمین اور ڈیلی ویجرز کے بل منظور نہیں کراتی تو عوام خود دیکھ لیں گے کہ جموں و کشمیر میں کس کا ایجنڈا نافذ ہو رہا ہے۔ فیصلہ عوام کریں گے۔ندائے مشرق خبر‘‘










