سرینگر/۲۲؍اکتوبر
جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں عمر عبداللہ کی شاندار کامیابی کے ایک سال بعد، بڈگام اسمبلی حلقے میں۱۱ نومبر کو ضمنی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ‘جنہوں نے دونوں نشستوں پر جیت کے بعد اپنے خاندانی گڑھ گاندربل کو برقرار رکھا‘اس بار براہِ راست انتخابی میدان میں نہیں ہیں، تاہم اس ضمنی انتخاب کا نتیجہ ان کی حکومت کے پہلے سال پر عوامی فیصلہ تصور کیا جائے گا۔
بڈگام گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔پارٹی۱۹۷۷سے یہاں کامیابی حاصل کرتی آئی ہے‘لیکن اس بار مقابلہ غیر معمولی اور دلچسپ نظر آ رہا ہے کیونکہ تین ’’آغا‘‘ امیدوار میدان میں ہیں۔
نیشنل کانفرنس نے سینئر سیاستدان آغا محمود کو امیدوار بنایا ہے، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے آغا منتظر مہدی پر بھروسہ کیا ہے، جنہوں نے پچھلے سال عمر کے خلاف الیکشن لڑا تھا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آغا سید محسن کو امیدوار نامزد کیا ہے، جو پہلے دو آغاؤں کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔
اس مقابلے کو مزید دلچسپ اس بات نے بنا دیا ہے کہ ایک اور آغا …روح اللہ مہدی‘میدان سے باہر ہیں۔ بڈگام سے تین بار ایم ایل اے رہ چکے روح اللہ اب سرینگر سے رکن پارلیمان ہیں اور انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے، یہاں تک کہ اپنے بڑے چچا آغا محمود کے لیے بھی نہیں۔
روح اللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا’’میری وفاداری میری ضمیر اور اصولوں کے ساتھ ہے۔ میں اپنے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں، مگر ان سے گزارش کرتا ہوں کہ میری جدوجہد کو کمزور نہ کریں۔ اگر وہ اسے سمجھ نہیں سکتے یا اس کا حصہ نہیں بن سکتے، تو کم از کم مجھے اور میری جدوجہد کو اس سطح پر نہ گھسیٹیں‘‘۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب آغا محمود نے کہا تھا کہ انہوں نے روح اللہ سے بات کی ہے اور وہ ان کی مہم میں حصہ لیں گے۔
روح اللہ ۲۰۰۲ سے۲۰۱۴ تک بڈگام کی نمائندگی کرتے رہے۔۲۰۲۴ میں جب وہ پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئے تو اسے عمر عبداللہ کے لیے ایک محفوظ نشست سمجھا گیا۔ تاہم عمر کا بڈگام چھوڑنے کا فیصلہ کئی ووٹروں کو پسند نہیں آیا۔ نیشنل کانفرنس اور روح اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اب پارٹی کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بن گئی ہے۔ دونوں رہنما خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اب ان کے درمیان کوئی رابطہ باقی نہیں رہا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران روح اللہ نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور ریزرویشن کی ازسرِنو تقسیم جیسے اہم مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا قد خاص طور پر نوجوانوں میں بڑھا ہے، جو آغا محمود کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔ محمود، جو سابق وزیر بھی رہ چکے ہیں، اپنے حلقے کی بڑی شیعہ آبادی پر انحصار کر رہے ہیں۔
پی ڈی پی کے امیدوار آغا منتظر، روح اللہ کے کزن ہیں، لیکن دونوں خاندانوں کے تعلقات خوشگوار نہیں۔ منتظر اس امید پر الیکشن لڑ رہے ہیں کہ عمر عبداللہ حکومت کی کارکردگی سے ناخوش ووٹروں کی حمایت حاصل کر سکیں گے۔
بی جے پی کے امیدوار آغا محسن ایک کم معروف اور کم اثر رکھنے والے شیعہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کامیابی کے امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ ان کے دو بڑے حریف‘آغا محمود اور آغا منتظر‘ایک دوسرے کے ووٹ بینک کو کس حد تک تقسیم کرتے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی پوری طاقت کے ساتھ اس مہم میں حصہ لے گی کیونکہ اس کے سامنے بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ پارٹی یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ ضمنی انتخاب حکومت کی کارکردگی پر عوامی ریفرنڈم ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ پارٹی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے۔
تاہم حلقے میں شیعہ ووٹوں کی ممکنہ تقسیم نے غیر متوقع نتائج کا راستہ کھول دیا ہے۔ ایسے میں ایک اور امیدوار غلام محی الدین بٹ‘جو مزدور تنظیم کے سابق رہنما اور اس وقت آزاد امیدوار ہیں‘بھی انتخابی دوڑ میں ہیں۔
۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات میں محی الدین نے پی ڈی پی کے امیدوار کی حیثیت سے روح اللہ کو سخت مقابلہ دیا تھا، اور صرف ۲۷۸۷ ووٹوں سے شکست کھائی تھی۔
اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا بڈگام کا یہ انتخاب عمر عبداللہ کی حکومت کے لیے ایک ابتدائی انتباہ ثابت ہوتا ہے، یا نیشنل کانفرنس اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر اس نشست کو بچا لے جاتی ہے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
۔۔۔۔۔۔۔










