جموں/۲۱؍اکتوبر
جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس’ بھیم سین تْوتی نے منگل کو کہا کہ جموں ڈویڑن میں روزانہ ۱۰۰ سے زائد انسدادِ دہشت گردی آپریشنز انجام دیے جا رہے ہیں، جبکہ گھنے جنگلات میں چھپے غیر ملکی دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو جلد ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
آئی جی پی تْتی نے یہ بات جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب پولیس شہداء میموریل میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
یہ تقریب پولیس یاد گاردن کے موقع پر منعقد ہوئی، جو اْن ۱۰ سی آر پی ایف اہلکاروں کی یاد میں منائی جاتی ہے جنہوں نے ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۵۹کو لداخ کے ہاٹ اسپرنگز علاقے میں ۴۶۸۱ میٹر کی بلندی پر چینی فوج کے حملے کے دوران جان قربان کی تھی۔
آئی جی پی نے کہا’’گزشتہ دو برسوں سے غیر ملکی دہشت گرد جموں میں ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ تاہم، ہم انسدادِ دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی ہم جنگلات میں چھپے ان دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوں گے‘‘۔
توتی نے بتایا کہ جموں زون میں روزانہ تقریباً ۱۲۰؍ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔’’یہ ہمارا روزمرہ کا کام ہے… چاہے وہ قیاسی بنیاد پر ہو یا مصدقہ اطلاع پر مبنی کارروائی، یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے‘‘۔
پولیس آفیسر نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا پولیس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
ان کاکہنا تھا’’جموں زون میں دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جو اہلکار شہید ہوئے ہیں، وہ ہماری قربانیوں کا ایک پہلو ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہمارے کئی فرائض ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں اْن ساتھیوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو ٹریفک ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے یا جرائم پیشہ افراد سے لڑتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنا اہم فریضہ ہے، لیکن ہماری ذمہ داریاں اس سے کہیں وسیع ہیں۔ ہم اپنے تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں‘‘۔
آئی جی پی جموں نے ملک کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہمیشہ اْن کے خاندانوں کی شکر گزار ہے۔
پیر کو جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے پولیس ہیڈکوارٹر پر پولیس یاد گار دن کے سلسلے میں ایک خون عطیہ کیمپ بھی منعقد کیا گیا، جس میں جموں زون کے مختلف شعبوں، بٹالینز اور ضلعی یونٹس کے۱۲۵؍اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کیا۔
اسی دوران، جموں کے تمام دس اضلاع میں یادگاری تقاریب منعقد ہوئیں، جن میں اعلیٰ پولیس افسران، ریٹائرڈ اہلکار، شہداء کے اہلِ خانہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
توتی نے کہا’’میں جموں وکشمیر کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پولیس اپنی خدمات بخوبی انجام دینے کے لئے پر عزم ہے اور اس میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے ۔
آئی جی پی توتی نے کہا’’دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد نئی نئی تیکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم ان سے ہمیشہ دو قدم آگے رہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم کم وسائل پر بہتر سے بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










