سرینگر/۱۸؍اکتوبر
کرگل میں واقع یونیورسٹی آف لداخ کے اسکول آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بَک ویٹ فصل سے شہد نکالنے کا نیا طریقہ دریافت کر کے نہ صرف زراعت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل قائم کیا ہے بلکہ پہاڑی معیشت کے لیے نئی اْمیدیں بھی پیدا کی ہیں۔
یہ کامیابی دراصل پائیدار زراعت، دیہی روزگار، اور ماحولیاتی ہم آہنگی کی ایک مربوط کوشش ہے۔ ادارے کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد کرگل جیسے سرد و خشک خطے میں شہد کی مکھیوں کی افزائش ( ایپی کلچر) کو فروغ دے کر مقامی کسانوں کے لیے اضافی آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ادارے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ۲۰۱۹ میں الفالفا فصل سے شہد نکالنے کے بعد، اس سال اسکول نے بک ویٹ پر تجربہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ان کاکہناتھا’’اس سال اسکول نے ایک فلورل کیلنڈر ترتیب دیا، جس کے مطابق مکھیوں کے چھتّے الفالفا اور بَک ویٹ کے پھول آنے کے دوران متعارف کرائے گئے۔ اس ہم آہنگی کے نتیجے میں دونوں فصلوں سے اعلیٰ معیار کا شہد حاصل ہوا‘‘۔
بک ویٹ کی کاشت ۲۲ جولائی کو کی گئی تھی، جب کہ ۲۴؍ اگست کو شہد کی مکھیوں کی کالونیاں شیرِ کشمیر زرعی یونیورسٹی، کشمیر سے منگوائی گئیں۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ان کالونیوں سے شہد حاصل کیا گیا، جو کہ کرگل کی تاریخ میں پہلی بار بک ویٹ شہد کے طور پر درج ہوا۔
عہدیدار کے مطابق، کرگل کی بلند فضائی بلندی، صاف ماحول، اور قدرتی پھولوں نے اس شہد کو ایک منفرد ذائقہ اور خوشبو عطا کی ہے۔’’یہ شہد صرف ایک پیداوار نہیں بلکہ کرگل کے قدرتی ورثے کی علامت ہے،‘‘۔
ادارہ اب اس منصوبے کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ آئندہ مرحلے میں کرگل کے موزوں دیہات میں مزید مکھیوں کی کالونیاں لگانے، شہد کی برانڈنگ و مارکیٹنگ کو بہتر بنانے، اور بک ویٹ شہد کو جی آئی ٹیگ کے تحت محفوظ کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ اسے ’کرگل ہنی‘ کے نام سے عالمی منڈی میں متعارف کرایا جا سکے۔
مقامی زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خواتین کسانوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے امکانات کھولے گا۔ کرگل جیسے خطے میں جہاں روایتی زراعت موسم اور زمین کی پابندیوں میں جکڑی رہی ہے، وہاں شہد کی پیداوار ایک قابلِ عمل متبادل معیشت بن سکتی ہے۔
کرگل کا بَک ویٹ شہد دراصل ایک علامت ہے … اس سوچ کی جو مقامی زمین، محنت اور سائنسی جدت کو یکجا کر کے ترقی کی میٹھی صورت تراشتی ہے۔ اگر یہ کوشش پالیسی سطح پر تسلسل پائے، تو کرگل نہ صرف شہد میں خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ لداخ کو ہمالیائی خطے کا نیا شہد مرکز بھی بنا سکتا ہے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










