سرینگر/۱۸؍ اکتوبر
جموں کشمیر کانگریس نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ یونین ٹیریٹری کی دو اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں امیدوار کھڑا کرنے کے تمام امکانات پر غور کر رہی ہے۔
یہ ضمنی انتخابات۱۱ نومبر کو بڈگام (کشمیر) اور ناگروٹہ (جموں) اسمبلی حلقوں میں منعقد ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اْن کی جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) بڈگام نشست سے انتخاب لڑے گی، جبکہ اگر کانگریس نگروٹہ سے امیدوار کھڑا کرتی ہے تو این سی اس کی حمایت کرے گی۔تاہم، کانگریس کی ریاستی اکائی کے صدر طارق قرہ نے کہا کہ حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔
کانگریسی لیڈر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’انہوں (نیشنل کانفرنس) نے نگروٹہ نشست پر حمایت کی بات کی ہے، مگر ہم نے پورا معاملہ اپنی مرکزی قیادت کے سامنے رکھا ہے اور ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس دونوں نشستوں سے امیدوار کھڑا کرنے پر غور کر رہی ہے، تو قرہ نے جواب دیا کہ فیصلہ ہائی کمان کے ہاتھ میں ہے، تاہم’’تمام آپشن کھلے ہیں’’۔
قرہ نے مزید بتایا کہ پارٹی نے اپنی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو اْجاگر کرنے کے لیے ’ہماری ریاست، ہمارا حق‘ مہم دوبارہ شروع کر دی ہے۔ان کاکہنا تھا’’یہ مہم پہلے پہلگام حملے، پھر جنگ جیسے حالات اور اس کے بعد بادل پھٹنے سے پیدا شدہ صورتحال کے باعث مؤخر ہوئی تھی۔اب یہ پروگرام جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں منعقد کیا جائے گا‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا راجیہ سبھا انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کی جانب سے’سیف سیٹ‘ نہ دینے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان سب کچھ معمول پر ہے، تو قرہ نے کہا’’کس نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں‘‘؟انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے رویے پر ناراضی فطری تھی کیونکہ’’پارٹی قیادت کی اعلیٰ سطح پر یہ توقع نہیں تھی کہ نیشنل کانفرنس اپنی یقین دہانی سے پیچھے ہٹ جائے گی‘‘۔
قرہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس اس وقت نہ صرف ضمنی انتخابات بلکہ ریاستی درجہ کی بحالی کی سیاسی مہم دونوں پر یکساں توجہ دے رہی ہے، اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اپنی سیاسی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے مفت بجلی کی فراہمی کے متعلق انہوں نے کہا’’یہ ان کے منشور میں تھا وہ اپنے منشور کی وضاحت کریں گے ۔‘‘










