سرینگر/۱۶؍اکتوبر
سعودی عرب کے شہر مکہ میں ’کنگ سلمان گیٹ‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مسجد الحرام کے اطراف میں توسیع سے یہاں مزید نو لاکھ افراد نماز ادا کر سکیں گے۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’سعودی گزیٹ‘ کے مطابق مملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کو اس منصوبے کا اعلان کیا۔
سعودی گزیٹ کے مطابق مکہ شہر کے وسط میں بننے والا یہ منصوبہ شہری انفراسٹکچر کو بدل دے گا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا اور اس پر کتنی رقم خرچ ہو گی۔
مکہ میں واقع مسجد الحرام کو مذہب اسلام کی سب سے عظیم اور مقدس ترین مسجد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سعودی عرب کے مغرب میں واقع شہر مکہ کے وسط میں واقع ہے۔
۱۴۰۰ برس سے زیادہ قدیم یہ مسجد وسعت پاتے پاتے ۱۵ لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں ایک دن میں۳۰ لاکھ افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔
مسجد الحرام کے وسط میں کعبہ ہے جو اسلامی عقائد کے مطابق اللہ کی عبادت کے لیے زمین پر بنایا جانے والا پہلا گھر ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ مقام دنیا میں سب سے زیادہ مقدس ہے اور ان کا قبلہ ہے۔ہر سال لاکھوں افراد جج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے یہاں آتے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصے میں سعودی حکومت کی جانب سے ویزا اور سفری سہولیات کی آسانی کے سبب اب پورے سال ہی دنیا بھر سے مسلمان مکہ اور مدینہ آتے ہیں۔
سعودی گزیٹ کے مطابق مکہ میں مسجد الحرام کے اطراف میں ’کنگ سلمان گیٹ‘ منصوبے کا مقصد مکہ آنے والے سیاحوں اور زائرین کے لیے جدید اور ماڈرن سہولیات فراہم کرنا ہے اور روحانی سفر کے ساتھ ساتھ انھیں مکہ کی ثقافت کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق یہ منصوبہ ۱۲ ملین سکوائر میٹر (۲۹۴۴ ایکٹر) کے رقبے پر محیط ہو گا۔
’کنگ سلمان گیٹ‘ منصوبہ مسجد الحرام کے قریب سٹرٹیجک اہمیت کے علاقے میں بنایا جا رہا ہے جو مکہ آنے والے افراد کو رہائشی، ثقافتی اور دیگر ِخدمات فراہم کرے گا۔ ’گنگ سلمان گیٹ‘ کو مسجد الحرام سے منسلک کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بنایا جائے گا۔
اس منصوبے کی تعمیر سعودی کمپنی ’روح الحرام المکی‘ کمپنی کرے گی۔ یہ مسجد الحرام کے اطراف میں تعمیرات کرنے والے ادارے ’پبلک انویسٹمنٹ فنڈ‘ کے تحت کام کرتی ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی عالمی رئیل اسٹیٹ کے معیار پر عمل کرتے ہوئے رہائشیوں اور حاجیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔سعودی عرب کے ادارے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ’کنگ سلمان گیٹ منصوبے‘ کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہاڑوں کے درمیان مکہ شہر میں مسجد الحرام کے اطراف میں ایک ہی طرح کی درجنوں کثیر المنزلہ عمارتیں ہیں۔ویڈیو دیکھ کر بظاہر ایسا تاثر ملتا ہے کہ مکہ کے گرد ایک نیا جدید شہر ہے جس میں بازار اور سڑکیں ہیں اور بڑی تعداد میں بلند اور کثیر المنزلہ عمارتیں ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارتوں میں موجود لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے ہیں۔پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مکہ کے مقدس شہر میں ایک کثیر المقاصد پراجیکٹ ہے۔
سعودی گزیٹ کے مطابق سنہ ۲۰۳۶ تک اس منصوبے سے تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔
سعودی گزیٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکہ کے قدیمی تہذیبی ڈیزائن اور جدید ڈیزائن کا امتزاج ہو گا تاکہ شہر کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے سہولیات اور آرام کو یقینی بنایا جا سکے۔سعودی عرب کی معیشیت کا زیادہ تر انحصار تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہے۔
۲۰۱۷ میں سعودی عرب نے تیل پر اپنی معیشت کا انحصار کم کرنے کے لیے وڑن۲۰۳۰ منصوبے کا اعلان کیا تھے جس کے تحت مختلف منصوبوں پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے سنہ ۲۰۱۷ مین اس وڑن کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایک نئے جدید شہر کے آباد کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔
سعودی عرب کی معیشت میں جج کافی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنہ۲۰۱۹ میں سعودی عرب کو حج اورعمرے سے ۱۲؍ ارب ڈالر کی آمدن ہوئی۔روئٹرز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ وڑن ۲۰۳۰ کے تحت حج اور عمرہ زائرین کی تعداد کو بڑھا کر سالانہ تین کروڑ تک لے جایا جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ’کنگ سلمان گیٹ‘ منصوبے سے سعودی حکومت مکہ شہری میں جدید سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اْس کی تاریخی اہمیت کو بھی اجاگر کرنا چاہتی ہے۔دوسری جانب اس منصوبے کے تحت جج اورعمرے کے لیے آنے والے افراد کو سہولیات بھی مل سکیں گی۔
ندائے مشرق ڈیسک)










