واشنگٹن، 15 الکتوبر (یو این آئی) کم از کم 30 میڈیا اداروں نے پینٹاگون کی صحافیوں کے لیے نئی رسائی پالیسی پر دستخط کرنے سے انکار کر تے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام دنیا کی سب سے طاقتور فوج کی جامع کوریج میں کمی کا باعث بن سکتا ہے ، یہ فیصلہ گزشتہ روز منگل کی آخری تاریخ سے قبل کیا گیا ہے ، جس دن تک انہیں نئی پابندیوں کو قبول کرنا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز’ کے مطابق اس پالیسی کے تحت صحافیوں کو نئے قواعد کو تسلیم کرنا ہوگا، جن میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر وہ محکمہ دفاع کے اہلکاروں سے خفیہ یا بعض غیر خفیہ معلومات افشا کرنے کی درخواست کریں تو انہیں سیکیورٹی رسک قرار دیا جاسکتا ہے ، اور ان کے پینٹاگون پریس بیجز منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
رائٹرز ان اداروں میں شامل ہے ، جنہوں نے پریس آزادی پر خطرات کے باعث پالیسی قبول کرنے سے انکار کیا ہے ، دیگر تنظیموں میں ایسوسی ایٹڈ پریس، بلومبرگ نیوز، نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ، سی این این، فاکس نیوز، سی بی ایس، این بی سی، اے بی سی، این پی آر، ایکسیوس، پولیٹیکو، دی گارڈین، دی اٹلانٹک، دی ہل، نیوز میکس، بریکنگ ڈیفنس اور ٹاسک اینڈ پرپز شامل ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ پالیسی ان سے اتفاق کرنے کا نہیں، بلکہ صرف یہ تسلیم کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ ہماری پالیسی کو سمجھتے ہیں، صحافیوں نے اس پر شدید ردعمل دکھایا ہے ، خود کو متاثرہ ظاہر کر رہے ہیں، ہم اپنی پالیسی پر قائم ہیں، کیوں کہ یہ ہمارے فوجیوں اور قومی سلامتی کے بہترین مفاد میں ہے ۔
محکمہ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ جن تنظیموں نے منگل تک دستخط نہ کیے وہ اپنے پریس بیجز واپس کریں اور بدھ تک پینٹاگون میں موجود اپنے دفاتر خالی کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کو جب اس پالیسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پینٹاگون کے سربراہ پِیٹ ہیگسیَتھ سمجھتے ہیں کہ پریس دنیا کے امن اور ممکنہ طور پر قومی سلامتی کے لیے بہت زیادہ خلل ڈالنے والا ہے ۔
پیٹ ہیگسیَتھ نے ان تقاضوں کو ‘عام فہم بات’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی کا احترام ہو۔
نیوز اداروں نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ صحافیوں کی حساس علاقوں تک رسائی محدود ہو، پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن کے مطابق تصدیق شدہ رپورٹرز کو پہلے بھی صرف غیر خفیہ علاقوں تک رسائی حاصل تھی۔
5 بڑے نشریاتی نیٹ ورکس نے منگل کو مشترکہ بیان جاری کیا کہ ‘آج ہم تقریباً تمام دیگر نیوز اداروں کے ساتھ شامل ہو کر پینٹاگون کے ان نئے تقاضوں سے انکار کرتے ہیں، جو صحافیوں کی صلاحیت کو محدود کر دیں گے کہ وہ قوم اور دنیا کو اہم قومی سلامتی کے معاملات سے آگاہ رکھ سکیں، یہ پالیسی بے مثال ہے اور بنیادی صحافتی آزادیوں کے لیے خطرہ ہے ، ہم آزاد اور خودمختار پریس کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے امریکی فوج کی کوریج جاری رکھیں گے ۔
نیویارک ٹائمز کے واشنگٹن کے لیے بیورو چیف رچرڈ اسٹیونسن نے کہا کہ جب سے یہ پالیسی سامنے آئی ہے ، ہم نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ صحافیوں کی رپورٹنگ کو محدود کرتی ہے ، امریکی فوج تقریباً ایک کھرب ڈالر کے عوامی فنڈ سے چلتی ہے ، اور عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حکومت اور فوج کیسے کام کر رہے ہیں۔
رائٹرز نے بھی نئی شرائط پر اعتراض کیا اور کہا کہ ‘رائٹرز اپنی درست، غیر جانب دار اور آزادانہ رپورٹنگ کے عہد پر قائم ہے ، ہمیں امریکی آئین کے تحت دیے گئے پریس کے تحفظ، معلومات کے آزاد بہاؤ اور عوامی مفاد میں خوف یا جانبداری کے بغیر صحافت پر یقین ہے ، پینٹاگون کی نئی پابندیاں ان بنیادی اقدار کو مجروح کرتی ہیں۔
ایک وکیل جو پینٹاگون سے مذاکرات میں شامل تھے ، انہوں نے کہا کہ یہ قواعد امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت پریس کے تحفظات کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں، کیوں کہ یہ رپورٹرز کی معمول کی کوششوں کو ضابطے میں لاتے ہیں جن کے ذریعے وہ معلومات یا دستاویزات حاصل کرتے ہیں۔










