انتانانریو، 14 اکتوبر (یو این آئی) مشرقی افریقہ کے ملک مڈغاسکر کی حزبِ اختلاف کے رہنما اور دیگر عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اینڈری راجویلینا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں، یہ دنیا بھر میں جنریشن زی (نوجوانوں کی قیادت) کی بغاوتوں کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر گرنے والی دوسری حکومت ہے ۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے سربراہ سیتنی رانڈریاناسولونائیکو نے بتایا کہ صدر اینڈری راجویلینا اتوار کو ملک چھوڑ کر فرار ہوئے ، جب فوج کے کئی یونٹس نے بغاوت کرتے ہوئے مظاہرین کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے صدارتی عملے سے رابطہ کیا، اور انہوں نے تصدیق کی کہ صدر ملک چھوڑ چکے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صدر اس وقت کہاں ہیں۔
صدارتی دفتر نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
پیر کی شب فیس بک پر قوم سے اپنے خطاب میں راجویلینا نے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کی حفاظت کے لیے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا ہے ، انہوں نے اپنا مقام ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ وہ مڈغاسکر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے ۔
ایک سفارتی ذریعے نے تقریر کے بعد بتایا کہ راجویلینا مستعفی ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔
ایک فوجی ذریعے نے رائٹرز’ کو بتایا کہ راجویلینا اتوار کو ایک فرانسیسی فوجی طیارے میں سوار ہو کر مڈغاسکر سے فرار ہوئے ، فرانسیسی ریڈیو آر ایف آئی’ نے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔
میکرون نے مصر میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ فی الحال اس کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ فرانس نے راجویلینا کو فرار ہونے میں مدد دی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام برقرار رہنا چاہیے ، اور اگرچہ فرانس نوجوانوں کے مطالبات کو سمجھتا ہے ، انہیں فوجی دھڑوں کے ذریعے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔
فوجی ذریعے کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک ‘کاسا’ طیارہ اتوار کو سینٹ میری ہوائی اڈے پر اترا، 5 منٹ بعد ایک ہیلی کاپٹر آیا اور ایک مسافر کو طیارے میں منتقل کیا گیا، ‘وہ مسافر صدر اینڈری راجویلینا تھے ‘۔
یہ مظاہرے 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف شروع ہوئے تھے ، لیکن جلد ہی بدعنوانی، ناقص حکمرانی، اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف عوامی بغاوت میں تبدیل ہوگئے ۔ یہ غصہ ان حالیہ عالمی مظاہروں سے مماثلت رکھتا ہے جنہوں نے نیپال میں وزیرِ اعظم کے استعفے اور مراکش میں سیاسی بحران کو جنم دیا تھا۔










