سرینگر/۱۴؍اکتوبر
جموںکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ پہلگام حملہ‘ہند پاک کے درمیان حالیہ جنگ کی صورتحال اور گذشتہ مہینوں میں شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات سمیت کئی چیلنجوں کے بعد اس سال خطے کی مالی حالت خستہ رہی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے کہ یہ سال ہمارے لئے بہت مشکل رہا۔
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی) کے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے کہ یہ سال ہمارے لئے مشکل رہا‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’پہلے اپریل میں پہلگام حملہ ہوا، پھر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورتحال اور پھر جولائی، اگست اور ستمبر میں بارشوں کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا ان سب چیزوں کے نتیجے میں جموں وکشمیر کی مالی حالت خستہ ہوئی‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ تاہم ان مشکلات کے باوجود حکومت جموں وکشمیر کے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا’’صرف اندھیرا ہی اندھیرا نہیں ہے بلکہ اس میں روشنی کی ایک کرن بھی ہے جس کی بنیاد پر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں‘‘۔
رکن پارلیمان آغا روح اللہ کے حالیہ بیان کہ وہ ضمنی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کیلئے مہم نہیں چلائیں گے ، کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا جواب انتہائی مختصر تھا’’مجھے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے ‘‘۔
سیاحت کے فروغ کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہماری ایک ٹیم سنگاپور گئی ہے ۔ جنوب مشرقی ایشیا ہمارے لیے سیاحت کے لحاظ سے ایک بڑی مارکیٹ ہے باقی ملک میں چاہے وہ بنگلور ہو، کولکتہ، احمد آباد، ممبئی، یا دہلی، جہاں بھی ہمیں موقع ملتا ہے ، ہم سیاحت کی بحالی کے لئے کوششیں کرتے ہیں۔‘‘
اس دوران بارہمولہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راجیہ سبھا کا انتخاب نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے اور اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ سنگھتر ہو کر ’سفرن پارٹی‘ کے خلاف یکجا ہو جائیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد لون کے انتخابی عمل سے دور رہنے کے فیصلے سے صرف بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ ’’آپ اور میں جانتے ہیں کہ فائدہ کس کو ہوگا۔ میں دوسروں سے التجا کرتا ہوں کہ دور نہ رہیں۔ یہ این سی اور بی جے پی کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔ این سی کو ووٹ نہ دینا بی جے پی کی مدد کے مترادف ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے تمام اپوزیشن جماعتوں بشمول پی ڈی پی اور کانگریس سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں اور حکمتِ عملی کے تحت ووٹ دیں تاکہ بی جے پی کو شکست دی جا سکے۔ان کاکہنا تھا’’اگر مقصد بی جے پی کو روکنا ہے تو ہر جماعت کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ میدان سے باہر رہنا محض لڑائی کو کمزور کرنا ہے‘‘۔
انڈیا بلاک کے اندر رنجشوں کی رپورٹوں کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد برقرار ہے۔ ’’ہم نے چوتھی نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ کانگریس خود مقابلہ کرے کیونکہ اس سے ہماری جیت کے امکانات بہتر ہوتے۔ لیکن کانگریس نے مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، لہٰذا ہمیں وہاں بھی اپنا امیدوار نامزد کرنا پڑا‘‘۔
وزیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس اتحاد کے جذبے کو مضبوط رکھنے کے عزم پر قائم ہے اور تیّنوں نشستوں پر بی جے پی کو ہرانا ہمارا مقصد ہے۔ ’’ہمارا ہدف واضح ہے۔ بی جے پی کو شکست دینا ہے اور ہم ہر نشست پر اسی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










