نئی دہلی، 13 اکتوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز کیرالہ کے متنازعہ ملاپریار ڈیم کو بند کرنے اور اسی جگہ پر نئے ڈیم کی تعمیر سے متعلق عرضی پر نوٹس جاری کیا۔
چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت اور ریاست تمل ناڈو کو ہدایت دی کہ وہ این جی او "سیو کیرل بریگیڈ” کی طرف سے دائر عرضی کا جواب دیں۔
یہ ڈیم تمل ناڈو اور کیرالہ کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازعہ کا شکار رہا ہے ۔ عرضی گزار کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل وی گیری نے عدالت عظمیٰ کے سامنے دلیل دی کہ ڈیم 130 سال پرانا ہے ۔ انہوں نے ڈیم سے جڑے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تقریباً ایک کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے ۔
ان کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس بی آر گوائی نے بنچ کی جانب سے کہا کہ ڈیم کو مضبوط کرنے کی ہدایت جاری کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ماہر ادارہ کو ذمہ داری تفویض کی جاسکتی ہے ۔ ڈیم اور اس کا کیچمنٹ ایریا کیرالہ میں ہے ۔ تمل ناڈو اس کے آبی ذخائر کا پانی استعمال کرتا ہے ۔ اس ڈیم کو تمل ناڈو کے پانچ اضلاع کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے ۔
سپریم کورٹ نے 2014 کے فیصلے میں کہا تھا کہ ڈیم محفوظ ہے لیکن ڈیم کے ذخائر میں پانی کی سطح کو 142 فٹ پر برقرار رکھا جانا چاہیے ۔ اس کے بعد اس نے ڈیم کے انتظام و انصرام کے لیے نگران کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تمل ناڈو نے مسلسل کہا ہے کہ ڈیم محفوظ ہے ۔








