واشنگٹن، 13 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ‘جنگیں ختم کرنے میں ماہر’ ہیں اور وہ امن کے اقدامات پر نوبیل انعام حاصل کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، سنا ہے پاکستان اور افغانستان میں جنگ جاری ہے ، یہ معاملہ دیکھنا ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ روانگی کے موقع پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس دیرینہ دعوے کو دہرایا کہ ان کے ٹیرف کے خطرات نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کو روکنے میں مدد کی اور کہا کہ ان کی سفارت کاری کا مقصد ایوارڈ جیتنا نہیں بلکہ جانیں بچانا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کی جنگ ختم ہوچکی ہے اور اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کو اپنی صدارت کے دوران ‘آٹھویں جنگ’ قرار دیا جو انہوں نے ختم کرائی، امریکی صدر نے کہا کہ ان کا اسرائیل اور مصر کا دورہ – جو جنگ بندی کے بعد پہلا دورہ ہوگا، جنگ بندی کو مضبوط بنانے ، غزہ کی تعمیر نو کو آگے بڑھانے اور خطے میں امن کی کوششوں کو تقویت دینے پر مرکوز ہوگا۔
امریکی صدر نے عالمی تنازعات میں اپنی ثالثی کے ریکارڈ پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے متعدد عالمی جھگڑے حل کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ میری آٹھویں جنگ ہوگی جو میں نے ختم کرائی، اور میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک جنگ جاری ہے ، مجھے واپس جانا ہوگا، میں ایک اور کام کر رہا ہوں، کیونکہ میں جنگیں ختم کرنے میں ماہر ہوں’۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے ، گزشتہ رات کے وقت شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی تھیں۔
11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال حملے کیے جن کا پاک افواج نے بھرپور انداز میں جواب دیا، جوبی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان طالبان اور خارجی ہلاک کر دیے گئے ، فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 23 سپوت ہلاک اور 29 زخمی ہوئے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تنازعات کا بھی ذکر کیا جن کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے حل کیے ۔








