خرطوم، 13 اکتوبر (یو این آئی) سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) نے اتوار کو کہا کہ مغربی سوڈان کے شہر الفشر میں لڑائی میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) کے 100 سے زیادہ جنگجو مارے گئے ۔
ایس اے ایف کے چھٹے انفنٹری ڈویژن نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے اتوار کی صبح الفشر قصبے پر ملیشیا کے ایک شدید حملے کو کامیابی سے پسپا کر دیا۔ اس میں مزید کہا گیا ”ہماری افواج نے بہادری سے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، اہلکاروں اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا، ملیشیا کے 100 سے زیادہ جنگجو ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے ۔”
سوڈان کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ آر ایس ایف ڈرون حملوں میں الفشر میں ایک عارضی پناہ گاہ پر 57 شہری مارے گئے ، حالانکہ آر ایس ایف نے اتوار کو ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری سے انکار کیا تھا۔
آر ایس ایف کے ترجمان الفتح قریشی نے ایک بیان میں کہا ”ہم واضح طور پر الفشر قصبے میں نقل مکانی کرنے والوں کی پناہ گاہ کو نشانہ بنانے والے فضائی یا توپ خانے کے حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے جھوٹے دعووں کی تردید کرتے ہیں۔”
سوڈان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر ڈینس براؤن نے اتوار کو شمالی دارفور میں شہریوں کو بار بار اور جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی ‘سخت مذمت’ کی۔ اقوام متحدہ کے اہلکار نے ایک بیان میں کہا ‘اسپتالوں، پناہ گاہوں اور پناہ گزینوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے ۔ میں بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے اور شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کرنے کی اپنی سابقہ اپیل کا اعادہ کرتا ہوں۔’
الفشر میں مئی 2024 سے پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں، ایک طرف ایس اے ایف اور اتحادی افواج اور دوسری طرف آر ایس ایف کے درمیان اور حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے ۔ ایس اے ایف اور آر ایس ایف کے درمیان تنازعہ میں ، جو اپریل 2023 میں شروع ہوا، ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں، جس سے ملک کے انسانی بحران میں اضافہ ہوا۔







