سرینگر/۱۱؍اکتوبر
جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے ۲۵ کتابوں کی ضبطی کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے ایک مجموعے کی سماعت کے لیے تین رکنی فل بنچ تشکیل دی ہے۔ ان کتابوں کو مبینہ طور پر ’’جھوٹے بیانیے اور علیحدگی پسندی‘‘ کو فروغ دینے کے الزام میں ضبط کیا گیا تھا۔
یہ بنچ چیف جسٹس کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا ہے، جس میں جسٹس راجنییش اوسوال اور جسٹس شہزاد عظیم شامل ہیں۔ عدالت پیر کے روز اس معاملے کی سماعت کرے گی۔
فل بنچ کی تشکیل عدالت کی ۳۰ ستمبر کی سابقہ آبزرویشن کے بعد عمل میں آئی، جب عدالت نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ تین رکنی بنچ تشکیل دی جائے تاکہ ان عرضیوں میں اٹھائے گئے قانونی سوالات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ درخواست گزاروں نے اسے حکومت کی جانب سے کتابوں کی ’’غیرمنطقی اور غیرمحدود ضبطی‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ عرضیاں صحافی ڈیوڈ دیو داس، سی پی آئی (ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی، ریٹائرڈ ائیر وائس مارشل کپل کاک، ایڈووکیٹ شاکر شبیر، اور سواتک سنگھ سمیت دیگر افراد نے علیحدہ علیحدہ طور پر دائر کی ہیں۔
ان میں محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت فوجداری ضابطہ کی دفعہ ۹۵کے تحت ان کتابوں کی ضبطی کا حکم دیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کی کارروائی آئین میں دی گئی اظہارِ رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور اس کے پیچھے کوئی معقول یا تحریری وجہ نہیں بتائی گئی۔
واضح رہے کہ ۵؍اگست کو جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے ۲۵ کتابوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی اشاعت کو ممنوع قرار دیا تھا۔ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ یہ کتابیں ’’علیحدگی پسندی‘‘ کو فروغ دیتی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ ان۲۵ کتابوں پر پابندی کو چیلنج کرنے والی ایک مفادِ عامہ درخواست سب سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم عدالتِ عظمیٰ نے درخواست گزار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔ویب ڈیسک










