نہیں صاحب ہم کوئی الزام نہیں لگا رہے ہیں… لگانا چاہتے بھی نہیں ہیں کہ… کہ آجکل بہت سارے لوگ ہیں… ایسے لوگ ہیں جو یہ کام کررہے ہیں… جو عمرعبداللہ‘ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ پر الزام لگا رہے ہیں… طرح طرح کے الزامات… لیکن صاحب یقین کریں کہ ہم ایسا ویسا کوئی الزام نہیں لگانا چاہتا ہیں… بلکہ ہم کچھ اور کہنا چاہتے ہیں… یہ کہنا چاہتے ہیں کہ… کہ سپریم کورٹ نے مرکز کو جموںکشمیر کے ریاستی درجے کے حوالے سے ایک ماہ کی مہلت دی ہے… ریاستی درجہ بحال کرنے کی مہلت نہیں بلکہ اس نوٹس پر جواب دینے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دی ہے‘ جس نوٹس کا مرکز نے جواب نہیں داخل کیا تھا … سپریم کورٹ نے پہلی سماعت میں مرکز کو ۸ ہفتوں میں جواب دینے کا کہا تھا اور… اور ہمارے وزیرا علیٰ صاحب نے بڑی گرجدار آواز میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اس مہلت میںدستخطی مہم شروع کریں گے… جموںکشمیر کے لوگوں سے دستخط لیں گے اس بات پر کہ جموںکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے… لیکن… لیکن صاحب وہ دن اور آج کا دن … کم و بیش دو ماہ ہوگئے ہیں … لوگوں نے… جموںکشمیر کے لوگوں نے نہ جانے کتنے لاکھ دستخط کئے ہوں گے… کسی نے کسی عرضی پر تو کسی نے کسی چیک پر‘ کسی نے کسی حلف نامے پر تو کسی نے کسی سرکاری دستاویز پر لیکن… لیکن اُس پر دستخط نہیں کئے جو وزیر اعلیٰ مہم کے دوران ان سے… عام لوگوں سے لینے کی بات کررہے ہیں… ایک بھی دستخط کہیں سے بھی… جموںکشمیر کے کسی حصے میں لوگوں سے نہیں لیا گیا… بالکل بھی نہیں لیا گیا…اور لینا بھی نہیں چاہئے تھا کہ… کہ لوگوں نے ایک سال پہلے دستخط کیا اپنا ووٹ … قیمتی ووٹ عمرعبداللہ کو دیا… تاکہ یہ ریاستی درجے کی بحالی کا مقدمہ مرکزی حکومت کی عدالت میں لڑیں… پھر اسی اشو پر دستخطی مہم کا اعلان؟ … ایک ایسا اعلان تھا جس کاکہیں سر اور نہ پیر تھا … بالکل اسی طرح جس طرح الزام… عمرعبداللہ پر الزام لگانے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو ایک سال ہو رہا ہے… بالکل ایک سال لیکن اس ایک سال میںاان کی حکومت کا سر اور نہ پیر نظر آرہا ہے…عام لوگوں کو نظر نہیں آرہا ہے… لاکھ کوششوں کے باوجود بھی نظر نہیں آرہا ہے ۔ ہے نا؟




