فورسز کو خطے میں امن و امان کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو کچلنے کیلئے مکمل آزادی عمل حاصل رہے گی: شاہ
سرینگر/ ۹؍ اکتوبر
وفاقی وزیر داخلہ‘ امت شاہ نے آج نئی دہلی میں جموں کشمیر کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے دہشت گردی سے پاک جموں کشمیر کے ہدف کے حصول کے لیے مودی حکومت کی غیر متزلزل وابستگی کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کی پرعزم کوششوں کے سبب جموں کشمیر میں دشمنان وطن کے زیر پرورش دہشت گرد نیٹ ورک کو تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے۔
شاہ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ان کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسز کو خطے میں امن و امان کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو کچلنے کے لیے مکمل آزادی عمل حاصل رہے گی۔
شاہ نے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد مرکزی ریاست انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اقدامات کی تعریف کی، جن سے جموں و کشمیر کی مجموعی سلامتی کی صورتحال مضبوط ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کے باہمی مربوط اور چوکس انداز میں کام کرنے کے اہم کردار پر زور دیا۔
شاہ نے مزید کہا کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ، سکیورٹی فورسز کو مکمل تیاری کے ساتھ موجود رہنا چاہیے تاکہ دہشت گرد برفباری کا فائدہ اٹھا کر سرحد عبور نہ کر سکیں۔
آخری بار وزیرِ داخلہ نے۳۱؍ اگست اور یکم ستمبر کو جموں کے دورے کے دوران جموں و کشمیر میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیاتھا۔ یہ دورہ چشوٹی اور آدھ کنواری لینڈ سلائیڈ کے المناک واقعات اور اگست کے مہینے میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والے کلاؤڈ برسٹ اور فلڈ کے بعد کیا گیا، جن میں ۱۵۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا’’آج کے اجلاس میںمرکزیت کا موضوع موسم سرما کی انتظامی حکمت عملی رہا، کیونکہ لائن آف کنٹرول اور انڈیا،پاکستان سرحد پر صفر دراندازی سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز اندرونِ ریاست اور پہاڑی علاقوں میں شدت پسندوں کو ختم کرنے کی کوششیں بڑھائیں گی، کیونکہ بعض شدت پسند برف باری کے بعد نچلی وادیوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں‘‘۔
رپورٹس کے مطابق، دہشت گرد کشتواڑ ادھمپور، راجوری، پونچ اور دیگر اضلاع کے بلند پہاڑی علاقوں کے ساتھ کشمیر وادی میں بھی موجود ہیں۔ پچھلے چند ماہ کے دوران، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ساتھ متعدد بار رابطے قائم کیے، جس میں بعض کمانڈرز ہلاک ہوئے جبکہ کچھ فوجی شہید بھی ہوئے۔
مزید براں، اگست کی سیلابی صورتحال میں جموں، سانبہ اور کٹھوا اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کی باڑ کو شدید نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر یہ بہہ گئی۔ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) سرحدوں کی نگرانی سختی سے کر رہی ہے تاکہ دہشت گردفرار نہ ہو سکیں۔ باڑ کی مرمت اور دوبارہ تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، آرمی چیف، جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے ڈائریکٹر جنرل اور فوج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے ۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )
۔۔۔۔۔










