وزیر اعظم کی ہدایت ہے کہ ہر متاثرہ کسان کو بروقت مالی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اعتماد کے ساتھ اپنے کھیتوں میں لوٹ سکیں:چوہان
سرینگر/ ۷؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کیلئے مرکزی حکومت نے ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد تباہ شدہ کھیتوں کی بحالی اور کسانوں کی زندگیوں کو ازسرِ نو سنوارنا ہے۔
مرکزی وزیر برائے زراعت شوراج سنگھ چوہان اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے پیر کو نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد یہ اعلان کیا۔
چوہان نے کہا کہ حکومت’’اس مشکل گھڑی میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے‘‘۔انہوں نے اعلان کیا کہ ۱۷۱ کروڑ روپے کی رقم ۵ء۸لاکھ کسانوں کے بینک کھاتوں میں پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) اسکیم کے تحت براہ راست منتقل کی جا رہی ہے۔
ان کے بقول’’یہ قدم اْن خاندانوں کے لئے فوری راحت ہے جن کی فصلیں اور زمینیں شدید نقصان کا شکار ہوئی ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’وزیر اعظم کی ہدایت ہے کہ ہر متاثرہ کسان کو بروقت مالی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ اعتماد کے ساتھ اپنے کھیتوں میں لوٹ سکیں‘‘۔
ڈاکٹر جتندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور شوراج چوہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ جموں ڈویڑن کے وہ علاقے جہاں حالیہ بارشوں، طغیانی اور تودہ گرنے سے تباہی مچی، وہاں ۵۰۰۰ سے زائد مکانات کی ازسرنو تعمیر کی جائے گی۔
ہر متاثرہ گھرانے کو۳ء۱لاکھ روپے بطور بنیادی امداد جبکہ ۴۰ ہزار روپے فی خاندان وزارتِ زراعت کی جانب سے اضافی مالی مدد کے طور پر دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا’’ہماری اولین ترجیح ہے کہ متاثرہ خاندان جلد از جلد محفوظ مکانات میں واپس لوٹ سکیں‘‘۔
مرکزی حکومت نے قومی آفات ردعمل فنڈ (این ڈی آر ایف) اور ریاستی آفات فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت زمین کی زرخیزی کی بحالی اور سیلابی مٹی ہٹانے کے لئے بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا’’یہ اقدامات زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت بنانے کیلئے ناگزیر ہیں‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ جن کسانوں کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں، انہیں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت معاوضہ فراہم کیا جائے گا، اور نقصانات کے تخمینے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے اعلان کیا کہ متاثرہ علاقوں میں منریگا اسکیم کے تحت کام کے دن ۱۰۰سے بڑھا کر ۱۵۰ کر دیئے جائیں گے تاکہ دیہی خاندانوں کو روزگار اور آمدنی کے متبادل ذرائع میسر آئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن خاندانوں کے مویشی یا مکانات تباہ ہوئے ہیں، انہیں بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
ان کاکہنا تھا’’ہم ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں تاکہ صرف فصلیں نہیں بلکہ دیہی زندگی کے ہر پہلو کو سہارا دیا جا سکے‘‘۔
ڈاکٹر سنگھ نے لیونڈر کی کاشت اور باغبانی میں تنوع کو خود انحصاری اور جدت کی علامت قرار دیا۔انہوں نے کہا’’یہ پہلیں ہمالیائی خطے میں خودکفالت اور اختراع کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہیں، جن سے دیہی معیشت میں نئی جان پیدا ہو رہی ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ، اور سوئل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے ذریعے کشمیر کے کسان تیزی سے جدید اور خود مختار ہو رہے ہیں۔’’ایگری اسٹارٹ اَپس ایک نئی قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو روزگار اور جدت دونوں کو فروغ دے رہے ہیں‘‘۔
آخر میں شوراج سنگھ چوہان نے ڈاکٹر جتندر سنگھ کی ’’زمینی سطح پر کسانوں کے ساتھ وابستگی‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی تمام اسکیمیں …پی ایم کسان سے لے کر فصل بیمہ یوجنا تک… سرحدی علاقوں تک مؤثر طور پر پہنچائی جا رہی ہیں۔
چوہان نے کہا’’جموں و کشمیر کے کسانوں کی ثابت قدمی ہم سب کیلئے باعثِ فخر ہے۔ حکومتِ ہند اْن کے ساتھ کھڑی ہے جب تک ہر متاثرہ خاندان دوبارہ اپنے پاؤں پر نہ کھڑا ہو جائے‘‘۔
اجلاس میں وزارتِ زراعت و کسان بہبود، حکومتِ جموں کشمیر اور ریلیف آپریشنز کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









