سرینگر/۷؍ اکتوبر
وادی کشمیر کی صدیوں پر محیط پیپر ماشی کی صنعت، شدید چیلنجوں کے باوجود، نہ صرف اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے بلکہ آج بھی سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی کا ایک باوقار وسیلہ بنی ہوئی ہے۔
حالیہ برسوں میں اس قدیم فن میں نئی جان اْس وقت آئی جب شادی بیاہ کی تقریبات میں پیپر ماشی سے بنے خوبصورت ڈبوں، مومنٹو اور تزئینی اشیاء کے استعمال کا رواج بڑھنے لگا۔
شہرِ خاص کے زڈی بل علاقے سے تعلق رکھنے والے ماہر کاریگر حاجی محمد اختر میر نے یو این آئی سے گفتگو میں بتایا’’ان دنوں کشمیر میں شادیوں کا موسم عروج پر ہے۔ لوگ باراتیوں اور دولہے کے تحفوں کے لیے پیپر ماشی کے خصوصی ڈبے اور مومنٹو خرید رہے ہیں‘‘۔
میر کے مطابق اگرچہ اس فن کو ایک نئی جہت ملی ہے، مگر موجودہ معاشی حالات نے کاریگروں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا’’پہلگام حملے کے بعد وادی کے ہینڈی کرافٹ سیکٹر سے وابستہ ہزاروں افراد بری طرح متاثر ہوئے۔ سیاح ہی ہماری مصنوعات کے اصل خریدار ہیں، اور جب سیاحت رک جاتی ہے تو ہمارا کام بھی ٹھپ ہو جاتا ہے‘‘۔
ان کے بقول’’سرینگر میں تقریباً دس ہزار افراد براہِ راست پیپر ماشی سے جڑے ہوئے ہیں، مگر بدقسمتی سے اب ان میں سے زیادہ تر بے روزگار ہو چکے ہیں‘‘۔
سرکاری مدد کے بارے میں پوچھے جانے پر حاجی میر نے مایوس لہجے میں کہا’’حکومت صرف اْن کاریگروں کو بلاتی ہے جن کا سیاسی یا مالی اثر و رسوخ ہو۔ ہم جیسے عام کاریگر، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس فن کے نام کی، اْنہیں شاید ہی کوئی پوچھتا ہے۔ سرکاری میلوں میں ہماری اشیاء ضرور سجائی جاتی ہیں، مگر ان کے پیچھے جو محنت، پسینہ اور صبر ہے، اس کی کوئی قدر نہیں‘‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت وادی میں پیپر ماشی کی اشیاء شادی بیاہ کے موقعوں پر ایک نئی روایت بن چکی ہیں۔ کاریگروں کے مطابق، دولہے کے تحفوں، گلدانوں، ٹرے اور مومنٹو کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
میر نے بتایا’’لوگ چاہتے ہیں کہ شادیوں میں کشمیری ثقافت کی جھلک ہو۔ بہت سے خاندان اب پیپر ماشی کی چیزیں تحفے کے طور پر دیتے ہیں یا گھروں کی سجاوٹ میں استعمال کرتے ہیں‘‘۔
محکمہ ہینڈی کرافٹس کے کچھ نوجوان افسران نے بھی اس فن کے احیاء میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری تقریبات میں پیپر ماشی کے تحائف کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔
میر کا کہنا ہے’’یہ خوش آئند بات ہے کہ نئی نسل کے سرکاری افسر اس فن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے ہمیں حوصلہ بھی ملتا ہے اور کچھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں‘‘۔
اگرچہ حالیہ مہینوں میں سیاحت میں کمی آئی ہے، لیکن کاریگر پْرامید ہیں کہ آنے والے دن بہتر ہوں گے۔ حاجی میر کہتے ہیں’’اب دوبارہ سیاح آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر حالات پرامن رہے تو نومبر اور دسمبر میں اچھی سیاحت متوقع ہے، جس سے ہمارا کام بھی چل نکلے گا‘‘۔
پیپر ماشی کی تاریخ کشمیر میں ۱۴ویں صدی سے جڑی ہے، جب میر سید علی ہمدانیؒ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وادی میں تشریف لائے۔ اْن کے ساتھ آنے والے ہنرمندوں نے ہی یہاں پیپر ماشی کا فن متعارف کرایا۔ ابتدائی دور میں اس فن کا استعمال قرآن کور اور قلمدان بنانے تک محدود تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ کشمیری ثقافت کا لازمی جزو بن گیا۔
پیپر ماشی کا مطلب ہے ’کاغذ سے بنا ہوا‘۔ اس میں عام طور پر پرانا کاغذ، گوند، چاول کے آٹے یا مٹی کے ساتھ ملا کر سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ خشک ہونے کے بعد اس پر ہاتھ سے نقش و نگار اور رنگ و روغن کیا جاتا ہے، پھر وارنش کی تہہ چڑھائی جاتی ہے تاکہ چمکدار اور پائیدار شکل اختیار کرے۔
یہ فن صرف جمالیاتی نہیں بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوتا ہے۔
انیسویں صدی میں جب یورپی سیاح کشمیر آئے، تو وہ پیپر ماشی کی اشیاء سے بے حد متاثر ہوئے۔ تبھی یہ فن بین الاقوامی شہرت حاصل کر گیا۔ آج بھی لندن، پیرس، ٹوکیو اور نیویارک کے بازاروں میں کشمیری پیپر ماشی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق’’پیپر ماشی محض ایک دستکاری نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیب، تاریخ اور حسن کا آئینہ ہے۔ اگر حکومت اسے صنعتی سطح پر فروغ دے تو یہ ہزاروں خاندانوں کے لیے پائیدار روزگار فراہم کر سکتا ہے‘‘۔ان کا مشورہ ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں پیپر ماشی کی تربیت کو فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل اس ہنر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال سکے۔
حاجی میر جیسے درجنوں کاریگر اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت اس قدیم فن کو زندہ رکھنے کے لیے کوئی مؤثر پالیسی بنائے گی۔’’ہم نے یہ ہنر اپنے بزرگوں سے سیکھا ہے۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو اگلی نسل شاید اس پیشے کو چھوڑ دے۔ لیکن ہم پرامید ہیں کہ اگر حکومت مدد کرے اور سیاح واپس آئیں تو پیپر ماشی پھر سے اپنی پرانی شان حاصل کرے گا۔(یو این آئی)‘‘










