مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ قاہرہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرنے کے لیے حماس کو قائل کرنے کے لیے قطر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہم ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ بدر عبدالعاطی نے فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں اپنے تبصرے میں مزید کہا کہ ہم قطر میں اپنے بھائیوں اور ترکیہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں تاکہ حماس کو اس منصوبے کا مثبت جواب دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔
اس ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے ایک 20 نکاتی منصوبے کی نقاب کشائی کی تھی جس میں فوری جنگ بندی، اسرائیل کے زیر حراست فلسطینیوں کے لیے حماس کے یرغمالیوں کا تبادلہ، غزہ سے بتدریج اسرائیلی انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور ایک بین الاقوامی ادارے کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا۔
بدر عبدالعاطی نے کہا کہ اگرچہ وہ وسیع پیمانے پر غزہ کے لیے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں تاہم اس پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے خلاء ہیں جنہیں پْر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر دو اہم مسائل گورننس اور سیکیورٹی انتظامات پربات کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ ہم جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے منصوبے اور ان کے ویڑن کی حمایت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مصر کسی بھی صورت میں غزہ کے باشندوں کو بے گھر ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نقل مکانی نہیں ہوگی کیونکہ اس کا مطلب فلسطینی کاز کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصر ایسا نہیں ہونے دے گا۔
دوسری طرف فرانسیسی وزیر خارجہ نے جمعرات کو اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ حماس ہار چکی ہے اور اسے ہتھیار ڈالنا قبول کرلینا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب فلسطینی تحریک غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی تباہی کی سنگین ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔ وہ ہار چکی ہے اور اسے ہتھیار ڈال دینا چاہئیں۔








