وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیفٹ نے کہا ہے کہ امریکہ کو امید اور توقع ہے کہ حماس غزہ سے متعلق منصوبے پر رضامندی ظاہر کرے گی۔
لیفٹ نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر حماس منصوبے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتی ہے تو امریکی صدر اضح سرخ لکیر کھینچ دیں گے۔ لیفٹ کے مطابق وہ پْر اعتماد ہیں کہ صدر ایسا کریں گے۔
منگل کو ٹرمپ نے حماس کو تین سے چار دن کی مہلت دی تھی تاکہ وہ امریکا کے تجویز کردہ اس امن منصوبے کو قبول کرے۔
ادھر حماس نے واضح کیا کہ منصوبے میں درج شق کے مطابق 72 گھنٹوں کے اندر تمام زندہ قیدیوں کی رہائی اور ہلاک شدگان کی لاشوں کی حوالگی ممکن نہیں۔ فلسطینی خبر ایجنسی ’معاً‘ کے مطابق دوحہ میں ثالثوں کے ساتھ مشاورت میں حماس نے کہا کہ اسے منصوبے کے نکات پر مزید غور کے لیے وقت درکار ہے۔
حماس کے نمائندوں نے منصوبے کی 20 شقوں میں سے بعض پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، خصوصاً اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی واضح ضمانت، انخلا کا شیڈول اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے سے متعلق نکات پر۔
گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس نے غزہ تنازع کے حل کا منصوبہ پیش کیا جس میں مکمل جنگ بندی، حماس کے زیر حراست قیدیوں کی 72 گھنٹوں میں رہائی اور غزہ کو عبوری طور پر بیرونی انتظام میں دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس بدستور فلسطینی گروپوں اور ثالثوں سے مشاورت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی گروپوں نے منصوبے کے بعض ابہام پر تحفظات ظاہر کیے اور ان پر تحریری نوٹس دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب رہنماؤں کو دی گئی منصوبے کی کاپی اور حماس کو موصولہ مسودے میں فرق ہے۔
گروپوں نے اسرائیلی انخلا کے واضح شیڈول اور جنگ بندی کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لبنان جیسی صورتحال دوبارہ نہ ہو۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا تھا کہ منصوبے پر نہایت حساس نوعیت کی بات چیت جاری ہے اور اس معاملے پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس فائل پر کام صدر ٹرمپ اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے سپرد ہے۔







