دنیا کی ایک طاقتور شخصیت ایسی ہے جس کی طاقت کا دائرہ کار ڈونلڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن اور میکرون جیسے طاقتور حکمرانوں سے بھی زیادہ ہے۔
یہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ ہیں، پوپ کو دنیا کے کسی بھی ملک کے دورے کے لیے پاسپورٹ یا ویزے کی ضرورت نہی ہوتی، انھیں ویزے سے خصوصی استثنیٰ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی خاص مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
ویسے تو دنیا بھر کا کوئی عام شہری ہو، ممالک کے سربراہان ہوں، بادشاہ ہوں یا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سب پر ویزا کا قانون لاگو ہوتا ہے اور ان تمام شخصیات کو دوسرے ملک کا سفر کرنے کے لیے متعلقہ ملک کا ویزا درکار ہوتا ہے۔
تاہم دنیا میں واحد شخصیت پوپ ہی ہوتے ہیں جنھیں کسی بھی ملک کا سفر کرنے کے لیے ویزا لینے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور نہ ہی پاسپورٹ ضروری ہوتا ہے۔
کیتھولک چرچ اور دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ویٹی کن سٹی کے سربراہ پوپ ویزے کے بغیر دنیا کے کسی بھی ملک کا سفر کرنے کی مجاز ہیں اور اس وقت کیتھولک عیسائیوں کی روحانی سربراہی کے فرائض پوپ لوئس انجام دے رہے ہیں۔
چونکہ پوپ دنیا بھر کے 1.3 ارب کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا ہیں اس لیے میزبان ملک کے لیے وہ شاہی مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کیلیے ویزا یا پاسپورٹ درکار نہیں ہوتا۔
بہت سے وجوہات کی بنا پر پوپ کو ریاستی سربراہ، بادشاہ یا سفارت کار سے بڑا درجہ دیا جاتا ہے کیونکہ ویٹی کن مذہبی اور سفارتی مقام ہے جس سے بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل خودمختاری حاصل ہے۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ حال ہی میں انتقال کرجانے والے پوپ فرانسس نے ویزے کے بغیر 50 سے زائد ممالک کا دورہ کیا تھا کیوں کہ ویٹی کن سٹی کے سربراہ پوپ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سفارت کار ہیں اور سفارتی پاسپورٹ رکھتے ہیں جو انہیں بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دیتا ہے۔
ویٹی کن سٹی کے سربراہ پوپ اپنے ساتھ سفارتی پاسپورٹ رکھتے ہیں جس سے وہ دنیا بھر میں مفت سفر کرنے کے اہل اور کسی بھی ملک کا دورہ کرتے ہیں، اس دوران انہیں خصوصی مراعات دی جاتی ہیں۔
ان مراعات میں میزبان ملک کی جانب سے ویزا فری ٹریول بھی شامل ہوتا ہے جبکہ چند ممالک اسپیشل سیکیورٹی یا سیاسی وجوہات کی وجہ سے کچھ ضابطے بروئے کار لاتے ہیں لیکن عام طور پر پوپ کے لیے ویزا ضروری نہیں ہے۔
خیال رہے کہ ویٹی کن کے سربراہ پوپ کو خصوصی حیثیت کی قانونی بنیاد 1929 کے لیٹرن معاہدے میں فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت ویٹی کن کو خودمختاری دی گئی اور پوپ کو مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہوا۔
اسی طرح پوپ کو 1961 کے ویانا کنونشن کے تحت طے پانے والے بین الاقوامی معاہدوں میں بھی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔چین اور روس سمیت دنیا کے چند ممالک بعض اوقات پوپ کے سفر پر سیاسی شرائط عائد کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ویزا درکار نہیں ہوتا۔







