سرینگر/۳؍اکتوبر
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری کردہ موسم کی پیش گوئی کے پیش نظر مختلف محکموں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ۴؍اکتوبر سے جموں و کشمیر میں مغربی ہواؤں کا ایک فعال سلسلہ اثر انداز ہو سکتا ہے جس کے باعث کئی علاقوں میں بارش اور برفباری متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ تمام متعلقہ محکمے مکمل تیاری کی حالت میں رہیں تاکہ پھلوں کی فصل کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے، ضروری خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور موسم کی خرابی کے دوران تمام بڑی سڑکوں اور شاہراہوں کو قابلِ استعمال رکھا جا سکے۔
عمر عبداللہ نے تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے زراعت اور باغبانی محکموں کو ہدایت دی کہ کسانوں اور باغ مالکان کے لئے بروقت ایڈوائزری جاری کریں اور پھلوں کی کٹائی کے موسم میں پھلوں کی منڈیوں تک ہموار ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنائیں۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعمیراتِ عامہ اور قومی شاہراہوں کی ایجنسیوں بشمول این ایچ آئی ڈِی سی ایل، این ایچ اے آئی، سمپارک اوربیکن کو ہدایت دی کہ برف یا ملبے کی صفائی کے لئے حساس مقامات پر مناسب مشینری تیار رکھی جائے تاکہ سڑک کے بلاتعطل رابطے کو برقرار رکھا جا سکے۔
اِسی طرح محکمہ پاور ڈیولپمنٹ اور جل شکتی محکموں کو ہدایت دی گئی کہ فوری ردِّعمل کی ٹیمیں تعینات کریں تاکہ بجلی اور پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی رُکاوٹ کی صورت میں فوری بحالی ممکن ہو جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو کنٹرول روموں کو فعال رکھنے اور ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ قائم رکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نگرانی رکھی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے پولیس اور ٹریفک حکام کو بھی ہدایت دی کہ شاہراہوں اور اہم سڑکوں پر ٹریفک کو منظم رکھیں اور لوگوںکی حفاظت کے پیش نظر وقتاً فوقتاً سفری ایڈوائزری جاری کریں۔
عمرعبداللہ نے صحت شعبے میں تیاریوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ حساس مقامات پر ایمبولینسز دستیاب رکھی جائیں اور ایسے مریضوں کی نشاندہی کی جائے جنہیں ایمرجنسی حالت میں فوری طور پر منتقل کرنے کی ضرورت ہو تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں بروقت اقدامات کئے جا سکیں۔ اُنہوں نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی کہ بروقت موسمی اَپ ڈیٹس اور ایڈوائزری تمام دستیاب ذرائع سے عوام تک پہنچائی جائیں تاکہ لوگ پیشگی احتیاطی تدابیر اِختیار کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے راشن، اَدویات، ایندھن اور رسوئی گیس کے سٹاک پوزیشن کا بھی جائزہ لیا۔
اُنہیںبتایا گیا کہ نومبر تک کے لئے وافر مقدار میں ذخائر موجود ہیں اور باقاعدگی سے سپلائی بھی کی جا رہی ہے۔ صوبہ جموںکے وہ علاقے جو عام طور پر خراب موسم سے متاثر ہوتے ہیں وہاں بھی مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ قلت نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے بہتر کوآرڈی نیشن کے لئے مشترکہ کنٹرول رومز قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ صفائی کے کام بلاتعطل جاری رکھے جائیں تاکہ سڑکوں کی بروقت بحالی یقینی بنائی جا سکے۔
اُنہوں نے تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا،’’حکومت کی اوّلین ترجیح یہ ہے کہ متوقع موسمی خرابی کے پیش نظر مکمل طور پر تیار اور فعال رہا جائے۔ تمام محکمے قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، فصلوں کا نقصان روکا جا سکے اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی جا سکے۔
ڈی پی آئی آر‘‘










