سرینگر/۳؍اکتوبر
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کویندر گپتا نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین سے گھرا ہوا لداخ کسی بھی طرح کے تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا، لیکن کچھ عناصر فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہیں کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔
گپتا نے بتایا کہ۲۴ ستمبر کے تشدد میں چار افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے مجسٹریل انکوائری شروع کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لہیہ میں تیزی سے معمول پر آتی صورتِ حال پر اطمینان ظاہر کیا، جہاں حکام نے کئی دنوں کی جزوی نرمیوں کے بعد جمعرات کو پورے دن کیلئے کرفیو میں رعایت دی۔
پی ٹی آئی ویڈیوز سے بات کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ بھارت ناگرک سرکشا سنہیتا کی دفعہ ۱۶۳ پورے لداخ میں نافذ ہے، جو عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرتی ہے تاکہ۲۴ ستمبر جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
ایل جی گپتا نے کہا’’صورتحال تقریباً معمول پر ہے۔ تمام دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے ہیں، دفاتر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، اور آج (جمعہ) چوتھا دن ہے۔ آٹھویں جماعت تک کے اسکول بھی (جمعہ کو) کھل گئے ہیں اور تجارتی گاڑیاں بھی چل رہی ہیں۔ مجموعی طور پر کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔‘‘
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا ثبوت جعلی ویڈیوز (ڈیپ فیکس) کے پھیلاؤ سے ملتا ہے، اور ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔
گپتا نے کہا ’’بہت سے لوگ، جنہوں نے اپنے بیانات اور تقاریر کے ذریعے ہجوم کو تشدد پر اکسایا، حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ بے گناہوں کیلئے انصاف اور مجرموں کیلئے سزا کا بندوبست ہونا چاہیے۔‘‘
لداخ کے ایل جی نے کہا کہ جو لوگ پْرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔
گپتا، جو جمعرات کو دو روزہ دورے پر جموں پہنچ گئے، نے کہا کہ لداخ ایک ایسا علاقہ ہے جو پاکستان اور چین، دونوں سے متصل سرحد رکھتا ہے۔
گپتا نے کہا ’’یقینایہاں کچھ ملک دشمن عناصر موجود ہیں، اور ہم لداخ میں تشدد برداشت نہیں کر سکتے، جیسا کہ ۲۴ ستمبر کو دیکھا گیا۔ ہماری ترجیح ملک کی وحدت اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ لداخ کے لوگ امن پسند اور قوم پرست ہیں۔‘‘
تشدد کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کے بڑھتے مطالبے پر گپتا نے کہا کہ مجسٹریل انکوائری پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا’’اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو وہ (ہجوم) سب کچھ جلا ڈالتے۔ ہمیں ان چار افراد کی ہلاکت پر بہت افسوس ہے، جو ہمارے اپنے بچوں کی مانند تھے۔ میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘‘
گپتا نے مزید کہا’’ہلاک شدگان میں ایک سابق فوجی بھی شامل ہے، جو ایک ریٹائرڈ سپاہی کا بیٹا تھا، اور جس کے بچے آرمی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں، چاہے وہ (تشدد میں) ملوث تھے یا نہیں، یہ ایک ثانوی سوال ہے، لیکن ہجوم نے ایسی صورتِ حال پیدا کر دی تھی کہ جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔‘‘
ایل جی گپتا نے لیہ اپیکس باڈی (ایل اے بی ) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) سے مرکز کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل دہرائی۔انہوں نے کہا ’’بات چیت ہی راستے کھولتی ہے۔ اگر ہم بیٹھ کر گفتگو کریں تو ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘‘
ایل اے بی اور کے ڈی اے … جو بااثر گروہ ہیں اور لداخ کے لیے ریاستی درجہ اور آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت تحفظات کے مطالبے کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں ‘نے اعلان کیا ہے کہ وہ۶؍ اکتوبر کو مرکز کے ساتھ طے شدہ مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے، جب تک ۲۴ ستمبر کو چار افراد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم نہیں دیا جاتا اور تمام حراست میں لیے گئے افراد، بشمول ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، کو رہا نہیں کیا جاتا۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










