سرینگر/۳؍ اکتوبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے جمعہ کو کہا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی معراج ملک کی آئندہ اسمبلی اجلاس میں شرکت عدالت کی اجازت پر منحصر ہے۔
جمعہ کو یہاںصحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا’’ان کی حاضری اس بات پر منحصر ہے کہ کیا عدالت انہیں اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کے لیے انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو انہیں آنا چاہیے ‘یہ ایک اچھی بات ہوگی‘‘۔
واضح رہے کہ معراج ملک کو گزشتہ ماہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اسپیکر نے کہا کہ ان کا جواب اس وقت جانچ کے مرحلے میں ہے۔
راتھرنے کہا’’انہوں نے ایک گمراہ کن بیان دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے پی ایس اے کی توثیق کی ہے۔ ہمارا پی ایس اے کے نفاذ میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پی ایس اے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے لگایا جاتا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرہ کو اس کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے اے اے پی ایم ایل اے معراج ملک کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کی توثیق کی ہے۔
پرہ نے ایکس پر لکھا تھا’’شرمناک پسپائی۔ ایک منتخب ایم ایل اے کے خلاف پی ایس اے کی توثیق جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کو کارروائی کرنی چاہیے۔ عوام کے آخری ادارے یعنی ایم ایل اے کے ادارے کو خاموش نہ ہونے دیا جائے۔ آج معراج ہیں، کل کوئی اور ہو سکتا ہے‘‘۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس کے لیے عارضی کیلنڈر تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔
راتھر نے کہا’’میرا خیال ہے کہ اجلاس میں۵ سے ۷ نشستیں ہوں گی۔ یہ ایک مختصر اجلاس ہوگا۔ یہ حکومت کے کام پر منحصر ہے۔ ہمیں ایک دو دن میں سرکاری ایجنڈے سے متعلق معلومات مل جائیں گی اور اس کے بعد عارضی کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ایجنسیز‘‘










