بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home کاروبار

کشمیر کی تلہ دوزی:صرف ایک ہنر نہیں بلکہ کشمیری تہذیب و ثقافت کی علامت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-01
in کاروبار, مقامی خبریں
A A
کشمیر کی دستکاری کی صدیوں پرانی روایت کا تحفظ کریں گے: کے سی سی آئی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

سرینگر/۳۰ستمبر
وادی کشمیر نہ صرف اپنے منفرد حسن و جمال بلکہ صدیوں پرانی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ ان قدیم دستکاریوںمیں سے ’تلہ دوزی‘ہے،ایک ایسا فن جس نے کشمیری پہچان کو عالمی سطح پر جِلابخشی۔ کبھی یہ صنعت ہزاروں خاندانوں کیلئے روزگار کا ذریعہ تھی‘ لیکن مشینی دور اور بدلتے رجحانات نے اس کو کمزور کر دیا ہے ۔
شہر خاص سرینگر کے معروف تلہ ساز معراج الدین بٹ گزشتہ ساٹھ برسوں سے اس فن سے جڑے ہیں۔
یو این آئی سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ تلہ سوزی ایک ایسا قدیم ہنر ہے جس کی روایت صدیوں پر محیط ہے ۔
بٹ کے بقول’’یہ صرف شہر خاص تک محدود نہیں تھا بلکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی اس ہنر میں ماہر ہوا کرتے تھے ۔ آج بھی لوگ تلہ سوزی کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مشین کی آمد نے ہاتھ کے فن کو پیچھے دھکیل دیا ہے ‘‘۔
ماہر تلہ سوزکے مطابق، ہاتھ سے ایک پھرن پر تلہ سوزی مکمل کرنے میں دو سے ایک ماہ کا وقت لگتا ہے ، جبکہ مشین یہی کام ایک گھنٹے میں کر دیتی ہے ۔ یہی فرق اصل کاریگروں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔
کشمیری معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کو تلہ سوزی سے بنے کپڑے دینا ایک قدیم روایت ہے ۔ بٹ کہتے ہیں’’آج بھی ہر دلہن کے جہیز میں تلہ سوزی کے کپڑے شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ یہ روایت ہماری تہذیب کی گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے اور لوگ اس پر سختی سے عمل پیرا ہیں‘‘۔
اگرچہ پرانے کاریگر اب بھی دلجمعی سے اس ہنر سے وابستہ ہیں، مگر نئی نسل اس کی طرف مائل نہیں ہو رہی۔
بٹ کہتے ہیں’’نوجوان نہ یہ کام سیکھنا چاہتے ہیں اور نہ دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مزدوری کم ملنے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ دوسرے کاروبار سے جڑ رہے ہیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک تلہ سوز صبح سے رات تک محنت کرنے کے باوجود صرف تین سے چار سو روپے کما پاتا ہے ، جو موجودہ حالات میں نہایت ناکافی ہے ۔
مشینوں نے جہاں کام آسان کیا ہے ، وہیں ہاتھ کے فن کو شدید نقصان بھی پہنچایا ہے ۔ بٹ کا کہنا ہے کہ مشین کے ذریعے بنائے گئے کپڑوں کو بھی سیاحوں اور گاہکوں کو ہاتھ کی تلہ سوزی قرار دے کر بیچا جاتا ہے ۔
ماہر تلہ سوز نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا’’رواں برس لندن میں مقیم ایک کشمیری خاتون نے سرینگر کی ایک بڑی دکان سے شال خریدی۔ دکاندار نے اسے ہاتھ کی تلہ سوزی قرار دیا، مگر جب اس نے مجھے شال دکھائی تو میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ مشین سے کی گئی تھی۔ بعد میں اسی خاتون نے مجھ سے تین شال اور ایک پھرن پر ہاتھ سے تلہ سوزی کرنے کو کہا‘‘۔
ان کے مطابق یہ دھوکہ دہی نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا رہی ہے اور اس کا خمیازہ اصلی کاریگروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
تلہ سوزی کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے جب بٹ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے مایوسی کے لہجے میں کہا’’ہم نے رجسٹریشن بھی کروائی، مگر آج تک کسی قسم کی رعایت یا مدد نہیں ملی۔ حکومت اور ہینڈی کرافٹ محکمہ کو چاہیے کہ مشینوں پر پابندی عائد کرے تاکہ ہاتھ سے تلہ سوزی کرنے والے کسمپرسی کی زندگی سے نکل سکیں‘‘۔
تلہ سوزی صرف ایک ہنر نہیں بلکہ کشمیری تہذیب و ثقافت کی علامت ہے ۔ شال، پھرن، اور روایتی لباسوں پر تلہ کاری نہ صرف مقامی لوگوں کی شان بڑھاتی ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو کشش میں مبتلا کر دیتی ہے ۔
معاشی مشکلات اور مشینوں کے بڑھتے استعمال کے باوجود معراج الدین جیسے کاریگر اس فن کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق’’اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ صنعت آنے والے وقت میں صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گی‘‘۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور نجی ادارے تلہ سوزی کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی، مارکیٹ تک رسائی، تربیتی پروگرام اور مشینوں پر پابندی جیسے اقدامات اٹھائیں تو یہ صنعت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے ۔ سیاحت اور عالمی مارکیٹ میں کشمیری دستکاری کی مانگ آج بھی موجود ہے ، ضرورت صرف معیار اور اعتماد کو بحال کرنے کی ہے ۔
تلہ سوزی کے فن کو درپیش چیلنجز بے شمار ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ ہنر کشمیری تہذیب کا لازمی جزو ہے ۔
بٹ اور ان جیسے سینکڑوں کاریگر آج بھی امید کی ڈور تھامے بیٹھے ہیں کہ ایک دن حکومت اور عوام دونوں اس قیمتی ورثے کی اہمیت کو سمجھیں گے اور اسے بچانے کیلئے عملی اقدامات کریں گے ۔

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ہفتہ بھر کے کرفیو کے بعد لہیہ میں پورے دن کیلئے پابندیاں نرم، بازاروں میں پھر سے زندگی لوٹ آئی

Next Post

’ خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل برداشت‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم، خام تیل 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
عالمی خبریں

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

2026-07-21
ایل اور سی پر سکوت:کیرن علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں
اہم ترین

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

2026-07-16
جموں میں ووٹنگ سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات
اہم ترین

راجوری میں دو مشتبہ دہشت گردوں  کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع

2026-07-15
شدید سردی کے باعث معمول کی سرگرمیاں محدود لیکن قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں
قومی خبریں

حکومت نے پیاز کی قیمت خرید 250 روپے بڑھا کر 2,125 روپے فی کوئنٹل کی

2026-07-05
گلمرگ گنڈولا بچاؤ آپریشن مکمل
اہم ترین

سری نگر اور گلمرگ کے درمیان شام۵ بجے کے بعد سیاحتیگاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی

2026-07-01
پہلگام حملے کا’ ماسٹر مائنڈ ‘جھڑپ میں ہلاک
اہم ترین

آرمی چیف جنرل اُپیندر دویدی کی  لیہہ میں لیفٹیننٹ گورنر لداخ سے ملاقات

2026-06-27
شمالی کمان کے سربراہ‘ لیفٹیننٹ جنرل دیویدی کا راجوری میں اگلی چوکیوں کا دورہ
اہم ترین

آرمی کور کمانڈر کا راجوری کا دورہ  انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا جائزہ

2026-06-25
امرناتھ یاترا: سی آر پی کی بالتل روٹ پر ماؤنٹین ریسکیو ٹیمیں تیار
اہم ترین

راجوری میں ’آپریشن شیروالی‘۳۱ ویں روز میں داخل

2026-06-23
Next Post
’ خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل برداشت‘

’ خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل برداشت‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.