سرینگر/۳۰ستمبر
وادی کشمیر نہ صرف اپنے منفرد حسن و جمال بلکہ صدیوں پرانی دستکاریوں کے لیے بھی دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ ان قدیم دستکاریوںمیں سے ’تلہ دوزی‘ہے،ایک ایسا فن جس نے کشمیری پہچان کو عالمی سطح پر جِلابخشی۔ کبھی یہ صنعت ہزاروں خاندانوں کیلئے روزگار کا ذریعہ تھی‘ لیکن مشینی دور اور بدلتے رجحانات نے اس کو کمزور کر دیا ہے ۔
شہر خاص سرینگر کے معروف تلہ ساز معراج الدین بٹ گزشتہ ساٹھ برسوں سے اس فن سے جڑے ہیں۔
یو این آئی سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ تلہ سوزی ایک ایسا قدیم ہنر ہے جس کی روایت صدیوں پر محیط ہے ۔
بٹ کے بقول’’یہ صرف شہر خاص تک محدود نہیں تھا بلکہ دیہی علاقوں کے لوگ بھی اس ہنر میں ماہر ہوا کرتے تھے ۔ آج بھی لوگ تلہ سوزی کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مشین کی آمد نے ہاتھ کے فن کو پیچھے دھکیل دیا ہے ‘‘۔
ماہر تلہ سوزکے مطابق، ہاتھ سے ایک پھرن پر تلہ سوزی مکمل کرنے میں دو سے ایک ماہ کا وقت لگتا ہے ، جبکہ مشین یہی کام ایک گھنٹے میں کر دیتی ہے ۔ یہی فرق اصل کاریگروں کو مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔
کشمیری معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کو تلہ سوزی سے بنے کپڑے دینا ایک قدیم روایت ہے ۔ بٹ کہتے ہیں’’آج بھی ہر دلہن کے جہیز میں تلہ سوزی کے کپڑے شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ یہ روایت ہماری تہذیب کی گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے اور لوگ اس پر سختی سے عمل پیرا ہیں‘‘۔
اگرچہ پرانے کاریگر اب بھی دلجمعی سے اس ہنر سے وابستہ ہیں، مگر نئی نسل اس کی طرف مائل نہیں ہو رہی۔
بٹ کہتے ہیں’’نوجوان نہ یہ کام سیکھنا چاہتے ہیں اور نہ دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مزدوری کم ملنے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ دوسرے کاروبار سے جڑ رہے ہیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک تلہ سوز صبح سے رات تک محنت کرنے کے باوجود صرف تین سے چار سو روپے کما پاتا ہے ، جو موجودہ حالات میں نہایت ناکافی ہے ۔
مشینوں نے جہاں کام آسان کیا ہے ، وہیں ہاتھ کے فن کو شدید نقصان بھی پہنچایا ہے ۔ بٹ کا کہنا ہے کہ مشین کے ذریعے بنائے گئے کپڑوں کو بھی سیاحوں اور گاہکوں کو ہاتھ کی تلہ سوزی قرار دے کر بیچا جاتا ہے ۔
ماہر تلہ سوز نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا’’رواں برس لندن میں مقیم ایک کشمیری خاتون نے سرینگر کی ایک بڑی دکان سے شال خریدی۔ دکاندار نے اسے ہاتھ کی تلہ سوزی قرار دیا، مگر جب اس نے مجھے شال دکھائی تو میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ مشین سے کی گئی تھی۔ بعد میں اسی خاتون نے مجھ سے تین شال اور ایک پھرن پر ہاتھ سے تلہ سوزی کرنے کو کہا‘‘۔
ان کے مطابق یہ دھوکہ دہی نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا رہی ہے اور اس کا خمیازہ اصلی کاریگروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
تلہ سوزی کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے جب بٹ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے مایوسی کے لہجے میں کہا’’ہم نے رجسٹریشن بھی کروائی، مگر آج تک کسی قسم کی رعایت یا مدد نہیں ملی۔ حکومت اور ہینڈی کرافٹ محکمہ کو چاہیے کہ مشینوں پر پابندی عائد کرے تاکہ ہاتھ سے تلہ سوزی کرنے والے کسمپرسی کی زندگی سے نکل سکیں‘‘۔
تلہ سوزی صرف ایک ہنر نہیں بلکہ کشمیری تہذیب و ثقافت کی علامت ہے ۔ شال، پھرن، اور روایتی لباسوں پر تلہ کاری نہ صرف مقامی لوگوں کی شان بڑھاتی ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کو کشش میں مبتلا کر دیتی ہے ۔
معاشی مشکلات اور مشینوں کے بڑھتے استعمال کے باوجود معراج الدین جیسے کاریگر اس فن کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق’’اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ صنعت آنے والے وقت میں صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گی‘‘۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور نجی ادارے تلہ سوزی کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی، مارکیٹ تک رسائی، تربیتی پروگرام اور مشینوں پر پابندی جیسے اقدامات اٹھائیں تو یہ صنعت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے ۔ سیاحت اور عالمی مارکیٹ میں کشمیری دستکاری کی مانگ آج بھی موجود ہے ، ضرورت صرف معیار اور اعتماد کو بحال کرنے کی ہے ۔
تلہ سوزی کے فن کو درپیش چیلنجز بے شمار ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ ہنر کشمیری تہذیب کا لازمی جزو ہے ۔
بٹ اور ان جیسے سینکڑوں کاریگر آج بھی امید کی ڈور تھامے بیٹھے ہیں کہ ایک دن حکومت اور عوام دونوں اس قیمتی ورثے کی اہمیت کو سمجھیں گے اور اسے بچانے کیلئے عملی اقدامات کریں گے ۔









