سرینگر/۳۰ ستمبر
حکام نے منگل کو لہیہ کے فسادات سے متاثرہ قصبے میں تقریباً پورے دن کے لیے کرفیو میں نرمی دی، جس سے بازار بتدریج کھل گئے اور عوام کو ہفتہ بھر کی پابندیوں سے راحت ملی۔
اس سے قبل پیر کو شام۴ بجے سے دو گھنٹے کے لیے پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔
ایک پولیس اہلکار نے کہا’’گزشتہ بدھ کو ہونے والے تشدد کے علاوہ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس اور نیم فوجی دستے حساس علاقوں میں بڑی تعداد میں تعینات ہیں اور امن و قانون قائم رکھنے کے لیے سخت نگرانی کر رہے ہیں‘‘۔
منگل کو ابتدا میں کرفیو صبح ۱۰ بجے سے دوپہر ۲ بجے تک نرم کیا گیا اور بعد میں اس مدت کو شام ۵ بجے تک بڑھا دیا گیا۔ حالات زیادہ تر پرامن رہنے پر حکام نے۵ بجے کے بعد بھی پابندیاں دوبارہ نافذ نہیں کیں، تاہم دکانداروں نے خود ہی نرمی کی مدت مکمل ہونے پر دکانیں بند کر دیں۔
بازار عوام سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں تھیں، تاہم تعلیمی ادارے بند رہے، انہوں نے بتایا۔
لہیہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ غلام محمد نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ نرمی کے دوران تمام کریانہ دکانیں، ضروری خدمات، ہارڈویئر اور سبزیوں کی دکانیں کھول دی جائیں۔
اس سے قبل ہفتہ کو پہلی بار کرفیو میں دو الگ الگ علاقوں میں دو، دو گھنٹے کے لیے نرمی دی گئی تھی، ایک بار دوپہر ایک بجے سے اور دوسری بار سہ پہر ۳۰:۳ بجے سے۔
حکام نے بتایا کہ لہیہ قصبے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں اور دیگر بڑے حصوں میں، بشمول کرگل، پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔موبائل انٹرنیٹ کی معطلی کو ۳؍اکتوبر تک بڑھادیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا تقریباً روزانہ اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ پیر کو انہوں نے عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ’امن ترقی کی بنیاد ہے‘۔
گپتا نے کہا’’میں معاشرے کے تمام طبقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اتحاد اور ہم آہنگی قائم رکھیں اور سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ انتظامیہ عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان کی حفاظت، عزت اور ترقی کو یقینی بنائے گی‘‘۔
ایل جی نے عوام کے ’قابل ذکر صبر و تحمل اور عزم‘کو سراہا اور وعدہ کیا کہ ان کے ہر جائز مسئلے کو مکالمے اور جمہوری طریقے سے حل کیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خفیہ معلومات کے بہتر حصول، باقاعدہ عوامی روابط اور شکایات کے تیز رفتار ازالے کی واضح ہدایات بھی جاری کیں تاکہ انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے۔
لہیہ میں ۲۴ ستمبر کی شام کو کرفیو اس وقت نافذ کیا گیا جب لیہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) کے ایک رکن نے ریاستی درجے اور لداخ کے لیے چھٹی شیڈول کے نفاذ کے مطالبات پر مرکز کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے ہڑتال کی کال دی تھی، جس دوران پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
اس واقعے کے بعد ۶۰سے زائد افراد، جن میں دو کونسلر بھی شامل تھے، کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی شامل تھے، جنہیں ۲۶ ستمبر کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے راجستھان کی جودھپور جیل بھیج دیا گیا۔
اس دوران، لداخ بی جے پی نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ’احتساب اور انصاف‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا’’ساتھ ہی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معمولی الزامات میں ملوث تمام بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے‘‘، اور ہلاک شدگان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔
بی جے پی نے کہا’’لداخ اپنی خوبصورتی اور عوام کی استقامت کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہم لداخ کے ہر فرد سے اپیل کرتے ہیں کہ امن و ہم آہنگی قائم رکھیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور نہ ہی غلط اطلاعات کے جال میں پھنسیں۔ آئیں ہم سب مل کر یہ یقینی بنائیں کہ امن قائم رہے‘‘۔
بیان میں سب کو یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اپیل بھی کی گئی۔’’ہم تمام شہریوں سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں تاکہ امن قائم رکھا جا سکے اور شفا یابی اور مفاہمت کی کوششوں کو سپورٹ کیا جا سکے۔
(ویب ڈیسک)‘‘










