اننت ناگ/۳۰ ستمبر
وزیراعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ان کی حکومت کی جدوجہد ہمیشہ جمہوری اقدار اور عدم تشدد پر مبنی ہوگی۔
اننت ناگ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر نے کہا کہ وہ احتجاج کے لیے تیار ہیں لیکن وادی کو ایک بار پھر تباہی، بربادی اور خونریزی کی طرف نہیں لے جائیں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں ریاستی درجہ بحالی کے لیے جمہوری اور پْرامن طریقے سے لڑوں گا۔ لیکن میں کشمیر کو دوبارہ آگ میں جھونکنے نہیں دوں گا۔ یہاں کے لوگ پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکے ہیں اور میں یہ دکھ اور غم کا سلسلہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا‘‘۔
وزیراعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ کسی بھی سیاسی سمجھوتے کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا’’اگر حکومت میں بی جے پی کی شمولیت سے ریاستی درجہ بحال ہو سکتا ہے تو میرا استعفیٰ لے لیجیے اور کسی اور ایم ایل اے کو وزیراعلیٰ بنائیے، لیکن میں سمجھوتہ نہیں کروں گا‘‘۔
عمرعبداللہ نے یاد دلایا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی ان کے پاس بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا موقع تھا۔ ’’جیسے مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے۲۰۱۵؍ اور ۲۰۱۶ میں کیا، میں بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا سکتا تھا۔ شاید اس سے ریاستی درجہ جلد بحال ہو جاتا۔ لیکن میں نے دوسرا راستہ چنا تاکہ بی جے پی کو جموں و کشمیر میں اقتدار سے دور رکھا جا سکے۔ ہمیں شاید زیادہ انتظار کرنا پڑے، لیکن میں انہیں اپنے ذریعے حکومت میں آنے کی اجازت نہیں دوں گا‘‘۔
ریاستی درجے کے لیے احتجاجی آوازوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر نے لداخ کے حالات سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا’’لداخ میں جب لوگ باہر نکلے تو ایک گھنٹے کے اندر گولیاں چلنے لگیں۔ یہاں کشمیر میں تو اتنا بھی انتظار نہیں کیا جائے گا…دس منٹ میں ہی گولیاں برسنے لگیں گی۔ میں نہیں چاہتا کہ کشمیری خاندان دوبارہ غم کے بوجھ تلے دب جائیں۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن جمہوری اور پْرامن انداز میں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی یاد دلایا کہ لداخ، جس نے ابتدا میں۵؍ اگست ۲۰۱۹ کو دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی کا خیر مقدم کیا تھا، اب مان رہا ہے کہ وہی آئینی تحفظات ان کے مفاد کے ضامن تھے۔’’ہم نے اْس وقت بھی کہا تھا، اور آج بھی کہتے ہیں کہ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ کو جو کچھ ہوا وہ غلط تھا‘‘۔
عمرعبداللہ نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت کی جدوجہد ریاستی درجہ بحالی تک جاری رہے گی۔’’ہم ترقی اور حکمرانی کے مخالف نہیں ہیں، لیکن ریاستی درجہ ہماری شناخت ہے۔ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ بحال نہ ہو اور وہ بھی اپنی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے‘‘۔
پی ڈی پی،بی جے پی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ۲۰۱۵ میں بھی بغیر بی جے پی کو شامل کیے جموں و کشمیر میں حکومت بنائی جا سکتی تھی۔ ان کاکہنا تھا’’کانگریس اور نیشنل کانفرنس تیار تھے۔ بی جے پی کو حکومت سے باہر رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن بی جے پی کو نمائندگی دینے کا بہانہ بنایا گیا‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا’’ہم نے بی جے پی کو شامل کیے بغیر بھی جموں کو نمائندگی دی۔ ہم نے پیر پنجال اور جموں کے زیریں علاقوں کو نمائندگی دی۔ آج نائب وزیراعلیٰ جموں سے ہیں، اور وہ بھی بغیر بی جے پی کی شمولیت کے‘‘۔ندائے مشرق خبر










