’عوام دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسے کسی بھی کام میں ملوث نہ ہوں جو دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ کرے‘
سرینگر/۲۷ ستمبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر، منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ جہاں حکومت اور سکیورٹی فورسز اپنا کام انجام دے رہی ہیں، وہاں یونین ٹیریٹری کے عوام پر بھی دہشت گردی کے خاتمے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
پر سنہا نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے اور اب یہ صرف چند علاقوں تک محدود ہے۔
ایل جی کاکہنا تھا’’دہشت گردی ملک کے دیگر حصوں میں کم ہو گئی ہے۔ شمال مشرقی بھارت اب زیادہ تر دہشت گردی سے آزاد ہے۔ بائیں بازو کی انتہا پسندی یا نکسلی تحریک اب چند اضلاع تک محدود ہے اور مجھے یقین ہے کہ چند ماہ میں یہ ملک سے مکمل طور پر ختم ہو جائے گی‘‘۔
سنہا نے کہا کہ کرناٹک، کیرالا اور خاص طور پر جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں میں دہشت گردی طویل عرصے سے موجود ہے، اور اسے ختم کرنا لازمی ہے۔
ایل جی نے کہا کہ یہ ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ اپنا کام کر رہی ہیں، لیکن جموں و کشمیر کے عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی ایسے کام میں ملوث نہ ہوں جو دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ کرے، چاہے وہ جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی۔ اس سے بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں،’’ انہوں نے مزید کہا۔
حالات کی بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ ماضی کی بات بن چکی ہے۔
ایل جی نے کہا ’’اسکول، کالجز اور کاروبار ملک کے دیگر حصوں کی طرح چل رہے ہیں۔ اب کسی بڑے دہشت گرد گروہ کا کوئی اعلیٰ کمانڈر زندہ نہیں ہے۔ اس سال اب تک صرف ایک مقامی شخص نے دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے‘‘۔
پاکستان کی دہشت گرد سرگرمیوں میں مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگرچہ کئی معاملات میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔’’بدقسمتی سے ہمارے پڑوسی ہمیشہ کسی نہ کسی شرارت میں ملوث رہتے ہیں‘‘۔
ایل جی نے کہا’’تقسیم کے بعد ملک کی تعمیر پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان نے ملک پر حملہ کیا، خصوصاً تقسیم کے فوراً بعد جموں و کشمیر پر حملہ کیا۔ انہوں نے چار براہِ راست جنگیں لڑی اور ہار گئے۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ بھارت کے ساتھ براہِ راست جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکتے، اس لیے وہ پراکسی وار میں ملوث ہیں اور لوگوں کو شدت پسند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
سنہا نے تشدد کے انسانی نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے۴۰ ہزار سے زائد افراد جان سے گئے ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ یہ حکومت اور فورسز کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکا جائے، لیکن عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے عوام کو آگے آ کر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،’’ انہوں نے کہا۔
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگ ایسے بیانات دیتے ہیں جو دہشت گرد گروہ’دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف)‘ سے مشابہت رکھتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’جب اس طرح کے بیانیے بنائے جاتے ہیں تو یہ بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر ہم جو باتیں کرتے ہیں وہ ٹی آر ایف کے سوشل میڈیا پوسٹ کے مشابہ ہوں تو یہ یقینی طور پر خطرناک ہے۔(ندائے مشرق ڈیسک)‘‘










