سرینگر/۲۷ستمبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے مرکزکے زیرانتظام علاقہ کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آئندہ ماہ طلب کر لیا ہے ۔ سرکاری نوٹس کے مطابق یہ اجلاس۲۳؍اکتوبر بروز جمعرات صبح ۱۰بجے سرینگر میں منعقد ہوگا۔
اسمبلی سکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تنظیم نو ایکٹ ۲۰۱۹کی دفعہ۱۸(۱)کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ، جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۵کو سرینگر میں صبح دس بجے طلب کیا ہے ۔
سیکریٹریٹ نے تمام اراکین اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ، وقت اور مقام پر اس اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت بلایا گیا ہے جب ریاستی سیاست اور خطے کے حالات مختلف پہلوؤں سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسمبلی اجلاس کے دوران اہم عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبے اور حالیہ سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے ۔
رواں ہفتے کے اوائل میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں کابینہ نے لیفٹیننٹ گورنر سے سفارش کی تھی کہ وہ ۱۳؍اکتوبر سے جموںکشمیر قانون ساز اسمبلی کا سیشن شروع کریں۔
قابل ذکر ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک روزہ خصوصی اجلاس بلایا گیا جب کہ بجٹ سیشن ۳مارچ سے۹؍اپریل تک جموں میں ہوا تھا۔
ایوان کی آئندہ کارروائی میں دو بڑے مسائل چھائے رہنے کی توقع ہے: ریاستی حیثیت اور ریزرویشن۔
گزشتہ اسمبلی اجلاس اس وقت ہنگاموں کی نذر ہوگیا تھا جب نیشنل کانفرنس کے ارکان نے وقف (ترمیمی) بل، ۲۰۲۵ پر اپنی التوا کی تحریک مسترد ہونے کے بعد ایوان میں شدید شور شرابہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی حیثیت سے متعلق تین اہم قراردادیں بغیر کسی بحث کے ختم ہوگئیں۔
دوسری جانب ریزرویشن کا معاملہ بھی ایوان میں بار بار اٹھتا رہا۔ اس سلسلے میں پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکنِ اسمبلی، سجاد غنی لون نے حکومت پر کھل کر تنقید کی اور اسے عوامی توقعات کے برعکس اقدامات کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ دونوں موضوعات آئندہ اجلاس میں بھی گرما گرم بحث کا باعث بنیں گے اور ایوان کی کارروائی پر غالب رہیں گے۔(ندائے مشرق خبر)










