نئی دہلی/۶۲ستمبر
ترکیہ کے صدر‘طیب اردغان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ترکی کے زیر قبضہ شمالی قبرص کے تنازعے کا حل اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز میڈیا بریفنگ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان کے کشمیر کا مسئلہ اٹھانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا”کشمیر پر ہمارا موقف واضح ہے ۔ گزشتہ ۰۱سال سے ہماری پوزیشن سب کے لیے واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے “۔
جیسوال نے کہا کہ ہندوستانی وزیر خارجہ نے قبرص کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے کہا کہ شمالی قبرص کے مسئلے کا اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق جامع اور مستقل حل ہونا چاہیے ۔
قابل ذکر ہے کہ صدر اردغان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس میں ہندوستان کو سکیورٹی کونسل کی مدد لینی چاہیے ۔
یاد رہے کہ ترکیہ نے۴۷۹۱ میں قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد سے وہاں تنازعہ پیدا ہوا ہے ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے شمالی اٹلانٹک معاہداتی تنظیم (ناٹو) کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے اسے حقیقت کے منافی اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔
جیسوال نے بریفنگ میں اس معاملے پر ناٹو سربراہ کے بیان کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے کہا”ہم نے وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان مبینہ فون بات چیت کے بارے میں ناٹو سکریٹری جنرل مارک روٹے کا بیان دیکھا ہے ۔ یہ بیان حقیقت کے منافی اور مکمل طور پر بے بنیاد ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کبھی بھی صدر پوتن سے اس طرح کی بات نہیں کی جیسا بیان کیا جا رہا ہے ۔ ایسی کوئی بات چیت ہوئی ہی نہیں ہے “۔
جیسوال نے کہا”ہم ناٹو جیسی اہم تنظیم کی قیادت سے عوامی بیانات میں زیادہ ذمہ داری اور درستی کی توقع رکھتے ہیں“۔انہوں نے مزید کہا”وزیراعظم سے متعلق ایسی بات چیت کے حوالے سے قیاس آرائی یا لاپروائی پر مبنی تبصرے ناقابل قبول ہیں جو حقیقت میں کبھی ہوئی ہی نہیں“۔
رپورٹس کے مطابق، ناٹو سربراہ سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا یوکرین تنازعہ کے حوالے سے امریکی ٹیریف کا ہندوستان پر کوئی اثر پڑا ہے ، تو انہوں نے مزاحاً کہا”ہندوستان پر ٹیریف کا اثر براہِ راست روس پر ہو رہا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان ماسکو میں ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کر رہا ہے اور نریندر مودی پوچھتے ہیں، ’میں آپ کی حمایت کرتا ہوں، لیکن کیا آپ مجھے اس حکمت عملی کے بارے میں سمجھا سکتے ہیں؟ کیونکہ اب امریکہ کی جانب سے لگائے گئے ۰۵فیصد ٹیریف سے میں بھی متاثر ہوں۔ صدر ٹرمپ اپنے اقدامات پر عمل کر رہے ہیں“۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے روس سے تیل خریدنے کے بارے میں ہندوستان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا”جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے ، ہندوستان کی توانائی کی درآمد کا مقصد ہندوستانی صارفین کےلئے سستی توانائی کی قیمت یقینی بنانا ہے ۔ ہندوستان اپنے قومی مفادات اور اقتصادی سلامتی کے تحفظ کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
یو این آئی/ڈیسک










