جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

مرکز کاراوی،بیاس،ستلج کو جوڑنے کامنصوبہ

حکومت چاہتی ہے کہ شمالی ریاستوں تک انڈس پانی پہنچانے کا منصوبہ ۲۰۲۹ کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے مکمل ہو

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-26
in اہم ترین, تازہ تریں
A A
مرکز کاراوی،بیاس،ستلج کو جوڑنے کامنصوبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

جموں کشمیر‘ ہریانہ ‘پنجاب‘راجستھان اور دہلی کو براہ راست فائدہ ملے گا ‘ منصوبے میں ۱۴ کلومیٹر طویل ٹنل کی تعمیر بھی شامل

سرینگر/۲۵ستمبر
بھارت شمالی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے انڈس دریا(دریائے سندھ) کے نظام میں بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ۱۹۶۰ میں عالمی بینک کی مداخلت سے طے شدہ انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) معطل کرنے کے بعد حکومت نے یہ منصوبہ تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے یہ معاہدہ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ کے پاہلگام دہشت گرد حملے کے بعد معطل کیا تھا، جس کے بعد بھارت کے حصے کے پانی کی بروقت تقسیم میں مشکلات پیدا ہو رہی تھیں اور شمالی ریاستیں اپنی پانی کی ضرورت پوری کرنے میں محدود رہی تھیں۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سینئر وزرا کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ ۱۴کلومیٹر طویل سرنگ کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کی جا رہی ہے، جو انڈس دریا کو بیاس دریا سے جوڑے گی۔ ملٹی نیشنل کنسٹرکشن فرم ایل اینڈ ٹی اس رپورٹ کی تیاری کر رہی ہے، جس کی توقع ہے کہ اگلے سال تک مکمل ہو جائے گی۔ اجلاس میں شمالی ریاستوں تک پانی پہنچانے والی ۱۱۳ کلومیٹر طویل نہر پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
منصوبے کے تحت ۱۴کلومیٹر سرنگ کی تعمیر سب سے مشکل حصہ ہے، جس کے لیے پہاڑی چٹانوں کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔ کمزور چٹانوں والے علاقوں میں سرنگ پائپ کے ذریعے رکھی جائے گی۔ تعمیر کے دوران سرنگ کی مشینیں اور راک شیلڈ ٹیکنالوجی استعمال کی جائیں گی تاکہ کام محفوظ اور تیز رفتار ہو۔
سرنگ اوجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ (جاتوا، جموں و کشمیر) سے منسلک ہوگی، جس سے اوجھ دریا (راوی کا ذیلی دریا) کا پانی بیاس بیسن میں منتقل ہوگا اور جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ریاست کے آبی وسائل بہتر ہوں گے اور خشک سالی کے دوران آبپاشی کے مواقع بڑھیں گے۔
یہ منصوبہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پنجاب، ہریانہ، دہلی اور راجستھان کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ راجستھان میں خشک علاقوں میں آبپاشی کے لیے پانی انڈرا گاندھی نہر کے ذریعے سری گنگانگر تک پہنچایا جائے گا، جبکہ دیگر ریاستوں میں پینے کے پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔
منصوبے کے تحت چناب دریا کو راوی،بیاس،ستلج نظام سے جوڑا جائے گا تاکہ تمام شمالی ریاستوں کے نہری نظام سے مربوط ہو کر پانی مؤثر طریقے سے تقسیم کیا جا سکے۔
اب تک سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو انڈس کے پانی کا مخصوص حصہ ملتا تھا، لیکن معاہدے کی معطلی کے بعد شمالی ریاستوں کو اس پانی کی بروقت ترسیل میں دشواری ہو رہی تھی اور کچھ پانی غیر استعمال شدہ رہ کر پاکستان کی طرف چلا جاتا تھا۔
اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد بھارت اپنے حصے کے پانی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر سکے گا، پانی کی حفاظت مضبوط ہوگی اور موسمیاتی تبدیلی اور بارش کے نمونوں میں تبدیلی کے اثرات کم ہوں گے۔
منصوبے کی متوقع لاگت چار سے پانچ ہزار کروڑ روپے ہے اور تعمیر ۳تا۴سال میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ متوقع تکمیل ۲۰۲۸ تک ہوگی۔
جموں میں رانبیر نہر کو۶۰ کلومیٹر سے بڑھا کر ۱۲۰ کلومیٹر کرنے کے منصوبے بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں تاکہ پانی کی ترسیل اور آبپاشی کے مواقع مزید بہتر ہو سکیں۔
یہ منصوبہ بھارت کے شمالی حصوں کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ بنانے اور دریا کے انفراسٹرکچر کو جدید اور مربوط بنانے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
۱۹۶۰ میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو صرف مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس اور ستلج) کا مکمل حق دیا گیا، جبکہ مغربی دریاؤں (جہلم، چناب اور انڈس) پر زیادہ تر کنٹرول پاکستان کو حاصل رہا۔
اس تقسیم سے جموں و کشمیر براہِ راست متاثر ہوا کیونکہ یہ تمام بڑے دریا اسی خطے سے نکلتے ہیں۔ معاہدے کے بعد ریاست اپنے ہی دریاؤں کے پانی کو نہ آبپاشی کے لیے پوری طرح استعمال کر سکی اور نہ ہی توانائی کے بڑے منصوبے لگا سکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ زراعت، آبپاشی اور ہائیڈرو پاور کے مواقع محدود رہے اور وافر پانی اکثر ضائع ہو کر پاکستان کی طرف بہہ گیا۔
یوں سندھ طاس معاہدے نے جموں و کشمیر کے وسائل کے استعمال کو سخت حد تک محدود کر کے اس کی ترقی پر منفی اثر ڈالا۔
معاہدے کی معطلی کے بعد جموں و کشمیر کے لیے نئے امکانات کھل گئے ہیں، کیونکہ اب خطے کو اپنے ہی دریاؤں کے پانی پر زیادہ حق مل سکے گا۔ معاہدے کی پابندیوں کے باعث اب تک وادی اور جموں کے کسان وافر پانی کے باوجود آبپاشی کے مسائل سے دوچار رہے اور بڑی ہائیڈرو پاور اسکیمیں بھی محدود رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی معطلی سے نہ صرف جہلم اور چناب کے پانی کو زراعت اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکے گا بلکہ پانی کا وہ حصہ جو اب تک ضائع ہو کر پاکستان چلا جاتا تھا، اسے مقامی ضروریات کے لیے محفوظ کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے خطے میں روزگار، توانائی اور زرعی ترقی کو نئی رفتار ملنے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر بھارت کی پانی کی سلامتی میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔(ندائے مشرق ڈیسک)

 

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

 

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ہمارے علماء حضرات …!

Next Post

وادی کے نوجوان ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہوں گے: جتیندر

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
جموں و کشمیر میں چار نئے ویدر ریڈار نصب ہوں گے؛ ڈاکٹر جتندر سنگھ کا اعلان

وادی کے نوجوان ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہوں گے: جتیندر

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.