سرینگر/۲۳ ستمبر
لداخ کی برف پوش وادیوں اور بلند و بالا پہاڑی راستوں میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ۹۱ کلومیٹر طویل اسٹریٹیجک سڑک، جو ہنلے کو سرحدی گاؤں چومر سے جوڑتی ہے، اب عام لوگوں کے لیے بھی کھول دی گئی ہے۔
یہ سڑک اپنی نوعیت میں منفرد ہے کیونکہ یہ۱۴۵۰۰فٹ سے لے کر ۱۷۲۰۰ فٹ کی انتہائی بلند چوٹیوں اور مشکل راستوں سے گزرتی ہے۔ راستے میں مشہور سلصا لا پاس بھی آتا ہے جو لداخ کے دشوار گزار راستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
یہ منصوبہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے پروجیکٹ ہیمانک کے تحت مکمل کیا گیا۔ فوج نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر بتایا کہ یہ سڑک نہ صرف سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حمل کو آسان بنائے گی بلکہ مقامی لوگوں کیلئے بھی ایک سہولت ثابت ہوگی۔
فوجی حکام کا کہنا ہے ’’یہ شاہراہ جہاں دفاعی نقط نظر سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، وہیں مقامی آبادی کے لیے رابطے اور سیاحت کے نئے امکانات بھی کھولے گی۔ اس راستے کے ذریعے مسافر اب آسانی سے ہنلے آبزرویٹری، کیون تسو جھیل، چلنگ تسو جھیل اور آگے بڑھ کر تسو مورری جھیل تک پہنچ سکیں گے‘‘۔
ماہرین کے مطابق اس شاہراہ کی تعمیر لداخ میں اسٹریٹیجک انفراسٹرکچر کی ترقی کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ ایک طرف یہ سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشنل تیاری کو مزید مستحکم کرے گی، تو دوسری طرف مقامی سطح پر سیاحت اور سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دے گی۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک کے کھلنے سے انہیں نئی امیدیں ملی ہیں۔ پہلے جہاں ان مقامات تک پہنچنا کٹھن اور وقت طلب ہوا کرتا تھا، اب نسبتاً آسان رسائی ممکن ہو سکے گی۔ سیاحتی ماہرین کے نزدیک یہ قدم لداخ کی سیاحت کو ایک نئی جہت دے گا، کیونکہ یہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح اب زیادہ سہولت کے ساتھ ان مقامات کی سیر کر سکیں گے جو قدرتی حسن اور دلکشی کے لیے مشہور ہیں۔
یہ شاہراہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ لداخ کی دور افتادہ بستیوں کے لیے ترقی کا نیا دروازہ ہے۔ فوجی ماہرین اسے اس خطے کی ’لائف لائن‘ قرار دیتے ہیں جو آنے والے برسوں میں دفاعی اور اقتصادی دونوں حوالوں سے اپنی اہمیت ثابت کرے گی۔ندائے مشرق ویب ڈیسک










