الور، 22 ستمبر (یو این آئی) راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تکارام جولی نے کہا ہے کہ ریاست میں لینڈ مافیا کا راج ہے اور امن و امان پوری طرح سے تباہ ہو چکا ہے ۔
مسٹر جولی نے پیر کو الور میں واقع اپنے موتی ڈنگری کے دفتر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ریاست میں ہر جگہ بدعنوانی اور جرائم عروج پر ہیں۔ حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کھاٹو شیام جی میں ہریانہ کی پولیس پر حملہ کا واقعہ پیش آیا، جب کہ وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع بھرت پور میں پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔ مسلسل بڑھتے ہوئے جرائم ثابت کرتے ہیں کہ لا اینڈ آرڈر پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور جرائم پیشہ عناصر کھلے عام سرگرم ہیں۔
مسٹر جولی نے الزام لگایا کہ مافیا تیزی سے حاوی ہوتا جا رہا ہے ۔ زمینوں پر قبضے ، غیر قانونی کان کنی اور بدعنوانی کے واقعات آئے روز رپورٹ ہو رہے ہیں لیکن حکومت آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ۔ عوام کو تحفظ اور ریلیف کی امید ہے لیکن حکومت محض وعدوں تک محدود ہے ۔
مسٹر جولی نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو سے بھی ڈیری انتخابات کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمراں پارٹی ڈیری انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ جمہوری نظام کے خلاف ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہی ہے ۔
اسمبلی کے معاملے پر مسٹر جولی نے کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر نے اب ان چیزوں کو بھی ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرے لگائے ہیں جو روایتی طور پر ریکارڈ نہیں کی جاتی تھیں۔ جب اپوزیشن نے اس معاملے پر جواب طلب کیا تو اسمبلی کے اسپیکر اور حکومت کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی کی جڑیں گہری ہوتی جا رہیٓں ہیں۔ ہر سطح پر گھپلے ہو رہے ہیں۔ عوام کا حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور انتظامیہ مکمل طور پر مافیا کے زیر اثر ہے ۔ مسٹر جولی نے کہا کہ کانگریس عوام کی آواز بلند کرتی رہے گی اور سچائی کو بے نقاب کرنے کا کام کرتی رہے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست کے عوام سچائی کو سمجھیں اور حکومت سے جواب طلب کریں۔








