نئی دہلی/۲۲ ستمبر
دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی مسلح افواج کو پہلگام میں معصوم شہریوں پر بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کے جواب میں مناسب کارروائی کرنے کی مکمل آزادی دی گئی تھی۔
سنگھ نے یہ بھی کہا کہ اس حملے کے جواب میں بھارت کی کارروائیاں’سوچی سمجھی اور غیر اشتعال انگیز‘ تھیں۔
دفاعی وزیر نے یہ ریمارکس مراکش کے شہر رباط میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے دیے۔ سنگھ دو روزہ دورے پر اس شمالی افریقی ملک میں ہیں۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق، دفاعی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بزدلانہ حملے کے بعد بھارتی مسلح افواج پوری طرح تیار تھیں اور انہیں جواب دینے کی مکمل آزادی دی گئی تھی۔
وزیر دفاع کاکہنا تھا’’ہم نے کارروائی مذہب دیکھ کر نہیں بلکہ عمل دیکھ کر کی ہے‘ہم نے کرم کو دیکھ کر کارروائی کی‘ دھرم کو دیکھ کر نہیں ‘‘۔
سنگھ نے رام چرتمانس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تاکہ قوم کے پْرعزم مگر محتاط رویے کو بیان کیا جا سکے۔
۲۲؍ اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں بھارت نے۷مئی کو آپریشن سندور شروع کیا، جس کا ہدف پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود دہشت گردی کے ڈھانچے تھے۔
ان حملوں کے نتیجے میں چار دن تک شدید جھڑپیں ہوئیں جو ۱۰مئی کو فوجی کارروائیوں کو روکنے کی باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ ختم ہوئیں۔
دفاعی وزیر نے یہ بھی اجاگر کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پچھلی دہائی کے دوران بھارت نے جو ترقی حاصل کی ہے، اس کے نتیجے میں جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے باوجود بھارت سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر ابھرا ہے اور جلد ہی دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہونے والا ہے۔
سنگھ نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی، نالج اکانومی میں تیز پیش رفت اور اسٹارٹ اپس میں اضافے کو نمایاں کیا، جو ایک دہائی پہلے۱۸ یونیکورنز سے بڑھ کر آج ۱۱۸ ہو گئے ہیں۔
سنگھ نے بھارت کی دفاعی صنعت کی ’شاندار ترقی‘ کو بھی اجاگر کیا، جو ۵ء۱لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار حاصل کر چکی ہے اور ۱۰۰ سے زیادہ ممالک کو ۲۳ہزارکروڑ روپے سے زیادہ کے دفاعی ساز و سامان برآمد کر چکی ہے۔دفاعی وزیر نے بھارتی برادری کی محنت، لگن اور ایمانداری کی تعریف کی۔
سنگھ کا مراکش کا یہ دورہ کسی بھی بھارتی دفاعی وزیر کا اس ملک کا پہلا دورہ ہوگا۔
اس دوران وہ اپنے مراکشی ہم منصب عبد اللطیف لودِیئی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔
بات چیت کے بعد دونوں ممالک دفاعی شعبے میں تعاون پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی توقع ہے۔
حکام نے کہا کہ یہ یادداشت دفاعی تعلقات کو وسعت دینے اور گہرا کرنے کے لئے ایک ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرے گی، جس میں تبادلے، تربیت اور صنعتی روابط شامل ہوں گے۔
بھارت اور مراکش کے درمیان تعلقات نے اس وقت رفتار پکڑی جب ۲۰۱۵ میں مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔










