سرینگر/۲۲ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں سیلاب کے بعد اِمدادی اور بحالی اَقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ میں وزرأسکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار، ستیش شرما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری اتل ڈولو،وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا؛ پرنسپل سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی، کمشنر سیکرٹری خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین، سیکرٹری سکولی تعلیم، جموںوکشمیر صوبوںکے صوبائی کمشنران، اِنسپکٹر جنرل پولیس (نیشنل ہائی وے) ضلع ترقیاتی کمشنروں اور دیگر متعلقہ اَفسران نے بھی میٹنگ میںشرکت کی جبکہ کئی افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے تخمینے جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ریلیف و بحالی کے منصوبے بروقت مرکزی حکومت کو بھیجے جا سکیں۔ اُنہوں نے سیلاب کے دوران جاری کئے گئے فنڈز کے بارے میں دریافت کیا اور بتایا گیا کہ کئی اَضلاع میں یہ رقم عارضی بحالی پر خرچ کی جا چکی ہے۔ اُنہوںنے مستقل حل پر زور دیتے ہوئے محکمہ جل شکتی کو ہدایت دی کہ وہ وقتی مرمت سے اِجتناب کریں اور صرف مستقل بحالی کے کاموں پر توجہ دیں۔
عمرعبداللہ نے سیلاب کے بعد کئے گئے سکولوں کے سیفٹی آڈِٹ کا بھی جائزہ لیااور اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے سوشل میڈیا پر سرینگر، جموں ہائی وے (این ایچ۴۴) پر پھلوں سے لدے ٹرکوں کی ’جان بوجھ کر تاخیر‘ سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی کمشنروں اور آئی جی پی (نیشنل ہائی وے) کو ہدایت دی کہ تصدیق شدہ معلومات بروقت عوام تک پہنچائی جائیں۔
وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ٹرکوں کی سست رفتاری بعض مقامات پر ہائی وے کی خراب حالت کی وجہ سے ہے، نہ کہ کسی جان بوجھ کر تاخیر کے باعث۔
دورانِ میٹنگ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں تاریخی مُبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اِظہار کیا۔ صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار نے بتایا کہ سرکولر روڈ کے ساتھ زمین بیٹھ جانے سے عمارت کے پچھلے حصے کو نقصان پہنچا ہے جس کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی کابینہ وزرأکو ہدایت دی کہ وہ اَپنے متعلقہ محکموں کے تخمینے جلد حتمی شکل دیں اور ضلعی حکام ان اعداد و شمار کی تصدیق کریں تاکہ مرکزی حکومت کو ایک جامع بحالی پیکیج پیش کیا جا سکے۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مضبوط تیاریوں کو یقینی بنائیں، پشتوں کو مضبوط کریں اور جان ومال کے تحفظ کے لئے مؤثر ردِّعمل کا طریقہ کار وضع کریں۔ اُنہوں نے متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ حالیہ ہماچل پردیش لینڈ سلائیڈ میں جاں بحق ہو ئے جموں و کشمیر کے باشندوں کے اہل خانہ کے لئے ایکس گریشیا ریلیف کی منظوری سے متعلق رِپورٹ پیش کریں۔
اِس سے قبل صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ نے سیلاب کے اثرات کے بارے میں ایک تفصیلی رِپورٹ پیش کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ صوبہ کشمیر میں۱۶مکانات مکمل طور پر تباہ،۵۷ کو شدید نقصان پہنچا اور۷۹۱کوجزوی طور پر نقصان پہنچا جن تمام متاثرین کو اِمداد فراہم کی جا چکی ہے۔ ایک شخص کی ہلاکت پر معاوضہ دیا گیا جبکہ اننت ناگ میں پیش آ ئے دیگر متعلقہ واقعات میں ۳ ہلاکتوں کا معاوضہ ریڈ کراس کے ذریعے اَدا کیا گیا۔ میٹنگ کو مویشیوں کے نقصان، مویشیوں کے شیڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان معاملات میں ادا کئے گئے معاوضے کے بارے میں بتایا گیا۔
بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل میں بتایا گیا کہ تقریباً ۹۰ کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں جن میں سے ۵۲ سڑکوں کی مرمت ہو چکی ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ ۸۷پُل اور کلورٹ بھی متاثر ہوئے جن میں سے نصف سے زائد کی مرمت کی جا چکی ہے۔ بڈگام کے زونی پورہ شالینا کے مقام پر جہلم میں ایک شگاف کی مرمت کی جا رہی ہے۔
پاور سیکٹر میں تباہ شدہ کھمبوں ، کنڈکٹروں اور ٹرانسفارمروں کی بحالی کیلئے زائد از۳۴ء۹ کروڑ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔۵۶۳ متاثرہ واٹر سپلائی سکیموں میں سے ۳۸۵ مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ ۱۱۵ سکولوں کی عمارتوں کا آڈِٹ کیا گیا جن میں سے ۴۳سکولوں کو سیفٹی سرٹیفکیٹ پہلے ہی جاری کئے چکے ہیں۔
صوبائی کمشنر کشمیر نے زرعی نقصان کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ۱۲۵۰۰ ہیکٹر سے زائد زمین متاثر ہوئی جبکہ تقریباً ۳۱۵ ہیکٹر باغبانی کے تحت زمینیں متاثر ہوئیں جن میں سب سے زیادہ نقصان اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ اضلاع میں تقریباً۵۹ لاکھ روپے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ۔ ضروری اشیا کی فراہمی مستحکم بتائی گئی جبکہ پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کا ذخیرہ کئی دنوں کیلئے کافی ہے۔ کشمیر سے جموں اور دہلی پھلوں کی ٹرانسپورٹیشن آسانی سے جاری ہے اور اَب تک زائد اَز۳۷ء۱ لاکھ ڈبے پہلے ہی منتقل ہو چکے ہیں۔
صوبائی کمشنر جموں نے صوبہ جموں کی صورت حال پیش کی جس میں کئی جانی اور مالی نقصانات کی رِپورٹ دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب میں ۱۵۰؍افراد جاں بحق‘۱۷۸ زخمی اور ۳۳ لاپتہ ہوئے جن میں سب سے زیادہ اموات کشتواڑ میں ہوئیں۔ زائد اَز ۴۲۰۰ مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ ۸۶۰۰مکانات کوجزوی طور پر نقصان پہنچا جن میں سب سے زیادہ متاثرہ اَضلاع ادھمپور اور جموں ہیں۔ مویشیوں کا نقصان ۱۴۵۵ رہا اور ۱۳۰۰ ہیکٹر سے زیادہ فصلوں کو نقصان پہنچا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیٹ ڈیزاسٹر ر سپانس فنڈ سے ۴۰ کروڑ روپے سے زائد کی مالی اِمداد دی گئی ہے جبکہ ایچ سی ایم ریلیف فنڈ سے۳۵ء۳ کروڑ روپے اِضافی جاری کئے گئے ہیں۔ تمام سیکٹروں میں بحالی کا کام جاری ہے جس میں ۲۷۰۰کلومیٹر سے زائد سڑکیں اور نصف سے زائد متاثرہ پُلوں کو عارضی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔ سڑکوں اور پُلوں کی مستقل بحالی کا تخمینہ تقریباً ۸۹۳ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ پاور سیکٹر بھی بُری طرح متاثر ہوا جس میں ۴۹ہزارسے زائد ڈِسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے جن میں سے تقریباً تمام بحال ہو چکے ہیں۔ ۲۰۰۰ سے زائد واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہوئیں جن میں سے ۱۶۰۰ عارضی طور پر بحال کی جا چکی ہیں۔ مستقل بحالی کیلئے تقریباً ۱۹۵ کروڑ روپے درکار ہیں۔
تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا اور زائد اَز۸۸۰۰ سکولوں کا سیفٹی آڈِٹ کیا گیا۔ ان میں سے ۵۵۰۰ کو سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے جن میں سے تقریباً ۵۲۰۰محفوظ قرار دئیے گئے جبکہ ۷۵۸ سکولوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ پبلک ہیلتھ شعبے میں۴۴۲ پانی کے نمونے ٹیسٹ کئے گئے اور زائد اَز ۱۵۰۰ طبی کیمپ لگائے گئے جن میں تقریباً ۸۰ہزاراَفراد کا طبی معائینہ کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بیماری کے پھیلنے کی کوئی انتباہی علامت نہیں ملی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک جامع پیکیج کی منظوری کے بعد بنیادی ڈھانچے کی مستقل بحالی اور معاش کی بحالی جنگی بنیادوں پر شروع کی جائے گی۔ڈی آئی پی آر










