سرینگر/۲۲ستمبر
جموں کشمیر کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری سید نصیر حسین کو وادی کے دورے کے دوران پروٹوکول کے مطابق سکیورٹی یا گاڑی فراہم نہیں کی گئی، جسے پارٹی نے سنگین معاملہ قرار دیا ہے ۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکام بی جے پی رہنماؤں کو ترجیحی بنیادوں پر سیکورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ حسین جیسے اہم اور ذمہ دار رکن پارلیمنٹ کو مقررہ پروٹوکول کے مطابق تحفظ اور سہولیات نہیں دی گئیں۔
قرہ نے بتایا کہ وادی میں موجود دوہرا کنٹرول نظام اس وقت مسئلہ بن گیا ہے ، جس کی وجہ سے ذمہ داری واضح نہیں رہی۔ انہوں نے کہا’’یہ پہلی بار ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ کو سفر کے لیے گاڑی بھی فراہم نہیں کی گئی، اور صرف ایک پی ایس او کو ایئرپورٹ بھیجا گیا‘‘۔
کانگریسی لیڈر نے مزید کہا کہ کانگریس اس معاملے کو مرکزی حکومت اور یوٹی حکومت دونوں کے سامنے اٹھائے گی اور جو ذمہ دار ہیں انہیں قواعد کے مطابق سزا دی جانی چاہیے ۔
قرہ نے واضح کیا کہ عوامی عہدے داروں کی حفاظت اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کسی طور قابل قبول نہیں ہے اور فوری طور پر کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔










