سرینگر/۱۹ ستمبر
مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے جمعہ کو سری نگر میں ایک جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) افسر کو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا۔
حکام نے بتایا کہ ملزم کی شناخت سرفرار احمد بٹ کے طور پر ہوئی ہے، جو اس وقت سلک فیکٹری دفتر سولنہ، سری نگر میں اسٹیٹ سیلز ٹیکس آفیسر کے طور پر تعینات ہے‘ اسے۲۰ ہزار روپے رشوت مانگنے اور وصول کرنے کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد کی گئی اور سی بی آئی کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے افسر کو اس کے دفتر کے اندر ہی گرفتار کیا۔
ایک اہلکار نے کہا’’لین دین کے فوراً بعد افسر کو حراست میں لے لیا گیا اور رشوت کی رقم اس کے قبضے سے برآمد کر لی گئی‘‘۔
سی بی آئی نے ایک باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ملزم دیگر بدعنوان سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا ہے یا نہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ یہ گرفتاری سرکاری دفاتر میں بدعنوانی پر قابو پانے اور عوامی عہدوں پر فائز افسران کو جواب دہ بنانے کے لیے ایجنسی کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھرجموں و کشمیر انسدادِ رشوت ستانی بیورو (اے سی بی) نے پٹواری حلقہ شاہپور، ضلع پونچھ، جمیل احمد بٹ کو۱۵ہزار روپے رشوت مانگنے اور وصول کرنے پر رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔
یہ کارروائی ایک تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ شکایت کنندہ کا مکان حالیہ شدید بارشوں کے دوران نقصان کا شکار ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ پولیس اسٹیشن پونچھ میں درج ہوئی تھی۔ جب شکایت کنندہ متعلقہ پٹواری جمیل احمد بھٹ کے پاس پولیس رپورٹ اور معاوضے کی درخواست کے مکمل فارم کے ساتھ پہنچا تو پٹواری نے مبینہ طور پر کیس کو آگے بڑھانے کے لیے ۲۰ ہزار روپے رشوت طلب کی۔
مالی طور پر تنگ دست ہونے کی وجہ سے شکایت کنندہ نے رشوت دینے سے انکار کیا اور اے سی بی سے رجوع کر کے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ شکایت درج کرائی۔
شکایت موصول ہونے پر پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ ۱۹۸۸ (ترمیم شدہ ۲۰۱۸) کی دفعہ ۷ کے تحت ایف آئی آر نمبر۶/۲۰۲۵ درج کیا گیا اور تحقیقات شروع کر دی گئی۔
تحقیقات کے دوران اے سی بی راجوری کی ٹیم نے جال بچھایا اور ملزم پٹواری کو۱۵ہزار روپے رشوت مانگتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اسے موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اس کی رہائشی جگہ پر بھی تلاشی لی گئی۔










