’ہمیں مرکزی حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر آنا ہوگا، ورنہ ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی‘
گلمرگ/۱۸ ستمبر
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج سیاحت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز اور کھلاڑیوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے خدشات کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ اٹھائیں گے اور کشمیر کے کئی بند پڑے سیاحتی مقامات کو کھولنے کی درخواست کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بات ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر (ٹی اے اے کے ) کی۱۷ ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) سے گلمرگ کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ایک طرف ہم سیاحت کو فروغ دیتے ہیں لیکن دوسری طرف کئی مقامات بند پڑے ہیں۔ یہ ہماری مشکل صورتحال میں سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ جب آدھا کشمیر سیاحت کے لیے بند ہو تو فروغ کا مطلب ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہم سیاحوں سے کیا کہیں… کہ آپ گنڈولا پر سواری کر سکتے ہیں لیکن اے ٹی وی گراؤنڈز بند ہیں؟ آپ ٹنگمرگ جا سکتے ہیں لیکن درنگ نہیں، یا آپ پہلگام آ سکتے ہیں لیکن آرو اور بیتاب ویلی نہیں جا سکتے؟ بدترین حالات میں بھی ہم نے یہ علاقے بند نہیں رکھے تھے۔ اس لیے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں وزیر داخلہ سے بات کروں گا اور ان سے درخواست کروں گا کہ یہ مقامات کھول دیے جائیں۔ اس سے اعتماد بڑھے گا اور ہم مزید سیاحوں کو متوجہ کر سکیں گے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب سیاحوں کو بتایا جاتا ہے کہ کچھ مقامات بند ہیں تو اس سے کشمیر کی مجموعی صورتحال کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔’’ہمیں مرکزی حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر آنا ہوگا، ورنہ ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔‘‘
نومنتخب ٹی اے اے کے صدر فاروق اے کْتھو کو مبارکباد دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے ایسوسی ایشن کو حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا’’ کْتھو کے پاس ایسوسی ایشن کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے۔ ان حالات میں سیاحت کو فروغ دینا آسان نہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جس طرح ہم سبکدوش صدر رؤف ترمبو کے ساتھ قریبی تعاون کرتے رہے، ہم آپ کی قیادت میں ٹی اے اے کے کے ساتھ بھی کام کریں گے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ خزاں اور سرما کے موسم کچھ بحالی لائیں گے، جبکہ بہار کے موسم کے لیے تیاریوں کو سنجیدگی سے شروع کرنا چاہیے۔
آج کے اجتماع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ گلمرگ کنونشن سینٹر میں منعقدہ پہلا پروگرام ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف کشمیر کی ۱۷ ویں سالانہ جنرل میٹنگ تھی۔ مستقبل میں فِکی، سی آئی آئی، حکومت ہند اور حکومت جموں و کشمیر کے کئی معزز پروگرام یہاں ہوں گے، لیکن پہلا ہمیشہ ٹی اے اے کے کے نام رہے گا۔‘‘
بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر مشہور سیاحتی مقامات سیاحوں کیلئے بند رہیں تو حکومت کی سیاحت کو فروغ دینے کی مہمات بے معنی ہوں گی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حال ہی میں پہلگام میں پیش آیا واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا، تاہم اس کے بعد کئی اصلاحی اقدامات کئے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’پہلگام میں جو ہوا، وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کے بعد متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ لیکن جب تک بند مقامات کو کھولا نہیں جاتا، ہماری سیاحتی تشہیر ایک فضول مشق رہے گی۔ اگر وہ کھلے نہیں ہیں تو پھر سیاحت کو فروغ دینے پر وسائل خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘
عمرعبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی معیشت بڑی حد تک سیاحت پر منحصر ہے اور خبردار کیا کہ مقامات کو بند رکھنے سے وادی کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔
کشمیر کے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد بارہا اس بات پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ مختلف ریزورٹس تک رسائی پر پابندیوں سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد متاثر ہوتی ہے۔










