نئی دہلی، 18 ستمبر (یو این آئی) گزشتہ ایک دہائی سے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، تنازعات اورکووڈ-19 کی وبا جیسے بے مثال بحرانوں سے نبرآزما دنیا کے درمیان، مودی حکومت نے اپنے مضبوط، جامع اور عملی فیصلوں کے ذریعے ہندوستان کو ایک مضبوط ملک کی پہچان دلاکر اس کی ساکھ کو بڑھایا ہے اور اب ملک اہم بین الاقوامی فیصلوں میں شامل ہوکر عالمی نظام کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے چھ براعظموں کے تقریباً 60 ممالک کا سفر کرکے دنیا کو ہندوستان کی جمہوری، ثقافتی روایات اور تنوع میں اتحاد کی طاقت سے متعارف کراتے ہوئے دنیا کو ایک خاندان ماننے کے واسودھیو کٹمبکم” کے فلسفے سے روبرو کرایا ہے ۔ انہوں نے "انڈیا فرسٹ” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ، بہت سے اہم حالات میں ٹھوس فیصلے لے کر، اپنی الگ پہچان بنائی ہے اور ملک ودنیا میں مقبولیت حاصل کی۔ مودی کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک 24 ممالک نے انہیں اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا ہے ۔
مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں جہاں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی گئی وہیں بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی طرف بڑھا کر طویل مدتی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہندوستان کے دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ تجارت اور دفاع سمیت کئی اہم شعبوں میں باہمی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ، جی20، برکس، شنگائی تعاون تنظیم، آسیان اور کواڈ جیسے بین الاقوامی فورموں پر بھی ہندوستان نے اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کیا ہے ۔ کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران، ہندوستان نے بہت سے ممالک کو ویکسین فراہم کرکے دنیا کو اپنے جامع وژن کا مظاہرہ کیا۔
ہندوستان نے یوکرین-روس اور اسرائیل-فلسطین تنازعات جیسے تنازعات کو حل کرنے کے لئے بات چیت پر زور دیتے ہوئے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ پالیسی اپنائی ہے اور مثبت حل کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی ہے ۔ مسٹر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی دونوں سے مل کر تنازعہ کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے ۔










